BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 August, 2008, 14:14 GMT 19:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وقت میں تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ

کابینہ
حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا
وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سورج کی روشنی سے استفادہ حاصل کرنے کی خاطر پاکستان کا معیاری وقت مزید دو ماہ تک تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

یکم جون کو جب حکومت نے گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس وقت کہا گیا تھا کہ یکم ستمبر کو گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کردی جائیں گی۔ لیکن اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کے معیاری وقت میں تبدیلی یکم نومبر سے ہوگی۔

یہ فیصلہ بدھ کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

کابینہ کے فیصلوں کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے بتایا کہ اجلاس میں کابینہ نے گریڈ ایک سے پندرہ تک کنٹریکٹ پر کام کرنے والے وفاقی ملازمین کو مستقل کیا جائے گا۔

وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت نے درآمدات کا بل کم کرنے اور ادائگیوں کے توازن کو کم کرنے کی خاطر غیر ضروری اشیاء پر درآمدی ڈیوٹی بڑھادی ہے۔

ان کے مطابق اس فہرست میں کھانے پینے، الیکٹرونکس، جدید موبائل فون سیٹ، بڑی گاڑیاں، زیورات سمیت مختلف اشیاء شامل ہیں۔

شیری رحمٰن نے بتایا کہ کابینہ نے ضابطہ فوجداری میں ترمیم کے ایک بل کی بھی منظوری دی ہے جس کے تحت سیشن کورٹ سے سزائے موت پانے والے قیدیوں کو جیل کے اندر موت کی کھولی میں قید نہیں رکھا جائے گا۔

ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ سزائے موت والے قیدیوں کو کھولی بند صرف اعلیٰ عدالتوں میں اپیلوں کا فیصلہ ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سی این جی کی قیمتوں کا تعین کرنے کا اختیار ’آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی‘ یا ’اوگرا‘ کو دینے کی منظوری بھی دی ہے۔

وزیر کے مطابق پراپرٹی کے معاملات کو شفاف رکھنے کی خاطر خرید و فروخت کے وقت اس کا مقررہ وکلاء سے تصدیق لازم کرنے کی خاطر متعلقہ قانون میں ترمیم کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

انہوں نے حکومت کی جانب سے باجوڑ کے متاثرین کو امدادی اشیاء پہنچانے کی تفصیل بتائی اور کہا کہ حکومت نے رمضان سے پہلے دس دس کلو کے راشن بیگ تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کی خاطر آٹھ کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

شیری رحمٰن نے بتایا کہ حکومت نے تحریک طالبان پر پہلے ہی پابندی لگا چکی ہے اور سٹیٹ بینک کو بھی کہہ دیا ہے کہ ان کے اکاؤنٹس منجمد کیے جائے۔

وزیر نے مزید بتایا کہ ایک غیر ملکی کمپنی سے ایک یاداشت نامے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ کمپنی وزیراعظم کی ہاؤسنگ سکیم کے تحت دس لاکھ مکان بنانے کے لیے دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد