BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 November, 2008, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہزاروں کی نوکریاں بحال

یوسف رضا گیلانی
اجلاس کی صدارت وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کی
وفاقی کابینہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت کے خاتمے کے بعد ’سیاسی بنیادوں‘ پر نوکریوں سے برطرف کیے گئے ہزاروں افراد کو اُن کی نوکریوں پر فوری طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

ان افراد کو نومبر 1993 سے نومبر 1996 کے دوران نوکریوں پر رکھا گیا تھا تاہم اُنہیں اس کے بعد دسمبر 1998 تک برطرف کیا گیا تھا۔ کابینہ کے اس فیصلے سے پانچ ہزار کے قریب افراد مستفید ہوں گے۔

کابینہ میں توسیع کے بعد وفاقی کابینہ کا یہ پہلا اجلاس تھا۔ اجلاس کی صدارت وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کی جس میں وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت نے شرکت کی۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا کہ اس عرصے کے دوران برطرف کیے جانے والے ان افراد کو دوبارہ بحال کر دیا جائے گا اور اُنہیں نہ صرف سنیارٹی دی جائے گی بلکہ اُنہیں بقایا جات بھی ادا کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ کے فیصلوں پر عمل درامد کے لیے بین الصوبائی وزیر رضا ربانی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں حکمراں اتحاد میں دیگر سیاسی جماعتوں کے وزراء بھی شامل ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے ملازمت پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف بل کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کو اپنی اپنی وزارتوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ہدایات جاری کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزارتوں کا بجٹ کم کرنے پر بھی زور دیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزراء اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی کے بارے میں وزیر اعظم کو بریفنگ دیں گے۔

اجلاس میں ان افراد کو نوکریوں پر بحال کرنے کے حوالے سے قائم کی جانے والی چھ رکنی بین الوزارتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جس کی وزیر اعظم نے منظوری دے دی۔ یہ افراد قومی ائر لائن پی آئی اے، او جی ڈی سی اور دیگر محکموں میں تعینات تھے۔

شیری رحمان نے کہا کہ کابینہ نے ٹیکسٹائل کے شعبے کی ترقی کے لیے مختلف منصوبوں کی منظوری دی۔ اجلاس میں ملک میں امن وامان کی صورتحال اور بلوچستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس کے دوران ملک میں بجلی کی سپلائی کی موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا۔

شیری رحمان نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے بجٹ میں 40 فیصد کمی کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ دوسرے وزراء سے کہا گیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے اخراجات میں کمی کریں بلکہ غیر ملکی دورے بھی کم کریں۔

۔ ۔ ۔ یا کابینستان
بڑی سے بڑی کابینہ کا مطلب؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد