BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 October, 2008, 11:27 GMT 16:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کے ای ایس سی بحران کا شکار‘

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی چیف ایگزیکٹو نوید اسماعیل
نئی انتظامیہ کو کچھ ہفتے قبل حکومت نے بجلی کے نرخوں میں ستر فیصد تک اضافے کی اجازت دی تھی
کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نوید اسماعیل نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ مالی بحران کا شکار ہے اور اسے نوے کروڑ سے ایک ارب روپے ماہانہ مالی خسارے کا سامنا ہے جبکہ شہر میں چار سو میگا واٹ بجلی کی کمی ہے جسے پورا کرنے کے لیے منصوبے بنائےگئے ہیں۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

نوید اسماعیل کے ای ایس سی کی اس نئی انتظامیہ کے ٹیم لیڈر ہیں جس نے پچھلے مہینے ہی دوبئی میں قائم سرمایہ کار ادارے ابراج کیپیٹل کے ہاتھوں کمپنی کے کنٹرولنگ شیئرز کی فروخت کے بعد ادارے کا کنٹرول سنبھالا ہے۔

نئی انتظامیہ کو کچھ ہفتے قبل حکومت نے بجلی کے نرخوں میں ستر فیصد تک اضافے کی اجازت دی تھی تاہم سخت عوامی ردعمل کے بعد حکومت نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا فیصلہ معطل کردیا۔

نوید اسماعیل نے اپنی پریس کانفرنس میں ادارے کو درپیش مسائل کا تفصیل سے ذکر کیا اور کہا کہ کے ایس ای سخت مالی مشکلات کا شکار ہے اور حالیہ مہینوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے یہ مشکلات مزید بڑھی ہیں۔

لوڈ شیڈنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے نوید اسماعیل نے کہا کہ شہر کو اس وقت چار سو میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ ان کے ادارے کی مجبوری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے ای ایس سی کے بجلی کے ضیاع کی شرح بہت زیادہ ہے اور 38 سے چالیس فیصد بجلی مختلف وجوہات کی بناء پر ضائع ہوجاتی ہے جسے کم کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

’ہماری بجلی کی پیداوار کے تمام یونٹ مشرقی سمت میں ہیں اور شہر کی آبادی میں جو اضافہ ہورہا ہے وہ شمال میں ہورہا ہے جبکہ ساری کی ساری انڈسٹری اور سائیٹ مغرب میں ہے تو ہمیں ان علاقوں تک بجلی گھماکر لے جانی پڑتی ہے اور اسکے نتیجے میں ٹرانسمیشن لاسز الگ ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ کسی بھی یوٹیلیٹی کے نظام کی بہتری اور ترقی کے لیے کم از کم بیس سالہ منصوبہ بنایا جاتا ہے لیکن کراچی کے لئے کبھی دس سال کا منصوبہ بھی نہیں بنایا گیا۔

’ایک پاور پلانٹ کو تیار ہونے میں چار سے پانچ سال لگ جاتے ہیں، ہم نے آنے کے بعد جو چند چیزیں تبدیل کی ہیں اس میں دس سال کا بجلی کا منصوبہ بھی ہے تاکہ آنے والے سالوں میں ہم ایسا سسٹم بناسکیں کہ ہمیں بجلی سستی مل سکے۔‘

نوید اسماعیل نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے اولین ترجیح کے طور پر بجلی کی پیداوار بڑھانے اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک قلیل المدت منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت اگلے ایک سال میں پیداوار چار سے ساڑھے چار سو میگاواٹ بڑھائی جائے گی۔

اسکے علاوہ انہوں نے کہا کہ اگلے تین سالوں میں پیداوار میں ایک ہزار میگاواٹ اضافے کے لیے بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کے تحت پہلے سے زیرتکمیل بجلی گھروں کو جلد مکمل کیا جائے گا، نئے بجلی گھر لگائے جائیں گے اور پہلے سے موجود بجلی گھروں کی پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے گی۔

نوید اسماعیل نے بتایا کہ بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے منصوبے کے تحت ایک نئی پالیسی بھی لائی جارہی ہے جس میں صنعتوں سے ان کے اپنے پاور پلانٹس کی بچ جانے والی اضافی بجلی خریدی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد