BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 October, 2008, 12:52 GMT 17:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بجلی شام کو مہنگی ، دن میں سستی

لوڈشیڈنگ
’پاکستان میں بجلی کی پیداوار اور کھپت میں قریباً تیس فیصد کا فرق ہے‘
حکومت نے بجلی کے زیادہ استعمال کی حوصلہ شکنی کرنے کی غرض سے اس کے نرخ کا تعین کرنے کے لیے ایک نئی پالیسی تیار کی ہے جس کے تحت شام کے اوقات میں استعمال ہونے والی بجلی کے نرخ دوپہر کی نسبت زیادہ ہوں گے اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کم استعمال کرنے والوں کی نسبت مہنگی بجلی خریدیں گے۔

رواں ماہ سے لاگو ہونے والے ان نئے اقدامات کے بعد بجلی کی قیمت میں اضافہ نہ کیے جانے کے باوجود عام صارف کے بجلی کے بل میں اوسطاً تیس سے پچاس فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ حکومت کا خیال ہے کہ بجلی کے استعمال میں بھی دس فیصد سے زائد کمی واقع ہوگی۔

حکومت بجلی کی بچت کا یہ منصوبہ ایسے وقت زیرعمل لائی ہے جبکہ ملک بھر میں بجلی کا بد ترین بحران جاری ہے اور ملک کے بعض علاقوں میں سولہ گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ یہ لوڈشیڈنگ بجلی کی پیداوار اور کھپت میں تقریباً تیس فیصد تک پائے جانے والے فرق کو پورا کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔

 وہ صارف جو دوپہر میں چار روپے فی یونٹ بجلی خرید رہے ہوں گے، غروب آفتاب کے بعد اسی بجلی کے بارہ سے پندرہ روپے ادا کریں گے۔

ملک میں بجلی کی پیداوار اور استعمال کی منصوبہ بندی کرنے والے ادارے پیپکو کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان نئے اقدامات پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے تاہم اس بارے میں باضابطہ اعلان بعض سیاسی وجوہ کی بنا پر مؤخر کر دیا گیا تھا۔

اکتوبر سے لاگو ہونے والے اس نئے منصوبے کے مطابق غروب آفتاب کے بعد سے چار گھنٹے تک کے وقت کو بجلی کے استعمال کے ’پیک آورز‘ قرار دے کر اس دوران استعمال ہونے والے بجلی کے فی یونٹ کی قیمت دوپہر یا رات گئے استعمال ہونے والی بجلی سے دو سے تین گنا زیادہ مقرر کی گئی ہے۔

اس پالیسی کی وجہ بیان کرتے ہوئے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت شام کے ان مخصوص اوقات میں بجلی نجی پاور سٹیشنز سے انتہائی مہنگے داموں خریدتی ہے لہذا اب انہی داموں پر عام صارف کو فروخت بھی کرے گی۔

پاکستان بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں

ذرائع نے بتایا کہ سرکار کی جانب سے بجلی خریدنے کے لیے ملک میں قائم بجلی گھروں کو ترجیحات کے لحاظ سے مرتب کیا جاتا ہے اور پہلے سب سے سستی بجلی پیدا کرنے والے یونٹ سے بجلی خریدی جاتی ہے۔ جوں جوں بجلی کی کھپت بڑھتی ہے حکومت مہنگے یونٹس سے بجلی خریدنے پر مجبور ہوتی ہے اور نوبت یہاں تک آتی ہے کہ غروب آفتاب کے بعد بجلی کی مانگ میں اچانک اضافے کے باعث مہنگی ترین بجلی خریدنا مجبوری بن جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق کمزور ملکی مالیاتی پوزیشن کے باعث حکومت ان اضافی ریٹس کو مزید رعایت دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ تاہم دوپہر میں استعمال ہونے والی بجلی پر بدستور سبسڈی دی جائے گی۔واضح رہے کہ حکومت ہر سال اوسطاً ساٹھ ارب روپے بجلی کے مختلف نوعیت کے صارفین کو سبسڈی دینے پر صرف کرتی ہے۔

اس طرح وہ صارف جو دوپہر میں چار روپے فی یونٹ بجلی خرید رہے ہوں گے، غروب آفتاب کے بعد اسی بجلی کے بارہ سے پندرہ روپے ادا کریں گے۔

اس کے علاوہ ایسے شہر جہاں بجلی کی چوری زیادہ ہے، وہاں رہنے والے صارفین شام کے اوقات میں استعمال ہونے والی بجلی ان شہروں یا قصبوں سے مہنگی خرید رہے ہوں گے جہاں ضائع ہونے والی بجلی کی مقدار کم ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس فیصلے سے شام کے وقت بجلی کی ترسیل کے نظام پر پڑنے والے شدید دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

 حکومت بجلی کی بچت کا یہ منصوبہ ایسے وقت زیرعمل لائی ہے جبکہ ملک بھر میں بجلی کا بد ترین بحران جاری ہے اور ملک کے بعض علاقوں میں سولہ گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے بجلی کے بلوں میں درجہ بندی کا فائدہ بھی رواں ماہ سے ختم کر دیا ہے اور اب زیادہ یونٹس استعمال کرنے والے پورے کے پورے بل پر یکساں اور زیادہ سے زیادہ فی یونٹ قیمت ادا کریں گے۔

اس سے پہلے حکومت نے بجلی کے کم یونٹس پر کم نرخ مقرر کر رکھا تھا اور جوں جوں استعمال شدہ یونٹس کی مقدار بڑھتی تھی، بجلی کے نرخ بھی بڑھتے چلے جاتے تھے۔

اس طرح ایک ہزار یونٹس استعمال کرنے والے صارف پہلے دو سو یونٹس کم نرخ پر خریدتے تھے، اگلے چار سو کچھ مہنگے اور آخری چار سو یونٹس انتہائی ریٹس پر چارج ہوتے تھے۔ اب نئی پالیسی کے تحت ایک ہزار یونٹس استعمال کرنے والے صارف کو تمام یونٹس کی زیادہ سے زیادہ قیمت ادا کرنی ہو گی۔

اسی بارے میں
سوات، گیس پلانٹ تباہ
23 September, 2008 | پاکستان
کے ای ایس سی ابراج کے حوالے
16 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد