لوڈ شیڈنگ سولہ گھنٹے تک روزانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور بعض علاقوں میں اس کا دورانیہ آٹھ گھنٹے سے سولہ گھنٹے تک جاپہنچا ہے۔ فیصل آباد،سرگودھا اور لاہورمیں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں،لاہور میں واپڈا کے ایک مقامی دفتر پر حملہ ہوا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ پاکستان کو سنہ دو ہزار سات سے بجلی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور شہری اور دیہی علاقے مسلسل لوڈ شیڈنگ کا شکار ہیں البتہ یہ دورانیہ کم زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ اس برس جولائی میں جب گرمی اپنی شدت پر تھی تو طلب کے مقابلے میں پاکستان کو پانچ ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی رہی۔ بعد میں دریاؤں میں پانی آنے اور موسم کی شدت میں کمی کے ساتھ ساتھ طلب رسد کا فرق کم ہوگیا تھا اور ماہ رمضان میں لوڈ شیڈنگ کم ہوکر بعض علاقوں میں دو سے تین گھنٹے تک رہ گئی تھی۔ ماہ رمضان کے بعد لوڈ شیڈنگ میں اچانک اضافہ ہوا اور گذشتہ ہفتے بعض علاقوں میں یہ سولہ گھنٹے تک جاپہنچی ہے۔ شہری علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کا کم از کم وقفہ ایک گھنٹے سے بڑھا کر ڈیڑھ سے دو گھنٹے کردیا گیا ہے اور بعض علاقوں میں مسلسل چھ چھ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔
پاکستان میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے پیپکو کا کہنا ہے کہ سیزن کے اس عرصے میں جب بجلی کی طلب کم ہوجاتی تھی سالانہ مرمت کا کام کیا جاتا تھا جو اس برس بھی معمول کے مطابق ہوا لیکن اس برس حالات ناسازگار تھے۔ واپڈا اور بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں نے سالانہ مرمت کے لیے حبکو،لال پیر،مظفرگڑھ ،گدو اور جام شوروں کے کئی یونٹ بند کردئیے گئے۔ دریاؤں میں پانی کی کمی کی وجہ سے پن بجلی کی پیدوار نصف یعنی چھ ہزار میگا واٹ کے گھٹ کر تین ہزار میگا واٹ رہ گئی ہے۔ پانی و بجلی کے وزیر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ مصیبتیں ایک ایک کرکے نہیں آئیں بلکہ ایک ساتھ حملہ آور ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سالانہ مرمت کے لیے یونٹ بند تھے ساتھ ہی چند ایک بڑے یونٹ خراب ہوگئے۔گیس کی فراہمی میں تعطل کا سامنا کرنا پڑا اور دریاؤں میں پانی کی کمی بھی ہوگئی۔ لاہور میں پیر کو ایک تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔انہوں نے کہا پیپکو کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ لوڈشیڈنگ غیر اعلانیہ نہ کرے۔
انہوں نے بتایا کہ پانی اور بجلی سے بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبے شروع کیے جارہے ہیں۔اگلے برس بھاشا ڈیم پر کام شروع ہوجائے گا جبکہ دور افتادہ علاقوں میں شمسی بجلی فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پانی و بجلی کے وزیر نے کہا کہ پاکستان میں طلب کے مقابلے میں بجلی پیدا کرنے کے وسائل کم ہیں جبکہ اگلے برس بجلی کی طلب میں مزید آٹھ فی صد اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک سے بجلی خریدنے کے لیے بات کی جارہی ہے لیکن بجلی کی سپلائی ہوتے ہوتے دو برس لگ جائیں گے جبکہ ہائیڈل منصوبہ اگر آج شروع کیا جائے تو بجلی کی فراہمی شروع ہونے میں پانچ برس لگیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی اس کمی سے جہاں عام شہری متاثر ہورہے ہیں وہاں مقامی صنعتوں کے لیے مشکل حالات پیدا ہوچکے ہیں اور اس کا اثر براہ راست مجموعی قومی پیداوار پر پڑے گا۔ |
اسی بارے میں ’اتحاد، عدلیہ، امریکہ یا روٹی کپڑا اور مکان‘ 11 May, 2008 | پاکستان ریٹائرڈ ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ29 April, 2008 | پاکستان ’حملہ جمہوریت کے خلاف سازش‘15 April, 2008 | پاکستان ’غریب کی آمدن وہی، خرچہ دوگنا ہوگیا‘15 April, 2008 | پاکستان بجلی بحران: کراچی میں لوڈشیڈنگ07 March, 2008 | پاکستان پاکستان میں بجلی کا شدید بحران04 January, 2008 | پاکستان سرحد: لوڈ شیڈنگ پر احتجاج03 January, 2008 | پاکستان بجلی کے بھاری بل نے جان لے لی06 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||