پشاور میں بجلی کی کمی سے پریشانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبائی دارالحکومت پشاور اور جنوبی اضلاع میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کا آرام و سکون مٹھی بھر مسلح افراد کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ مسلح افراد بغیر کسی مزاحمت کے کسی بھی وقت جا کر پشاور میں قائم بجلی کے مرکزی ٹرانسمیشن لائن کو تباہ کر دیتے ہیں جس سے نہ صرف پورے پشاور شہر اور جنوبی اضلاع میں ہفتہ دس دنوں تک بجلی کا نظام درہم برہم رہتا ہے بلکہ کاروبار زندگی بھی برح طرح مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ کچھ دن پہلے جب پشاور کے مضافاتی علاقے شیخ محمدی میں قائم بجلی کے مرکزی سپلائی لائن کو نامعلوم مسلح افراد نے دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا جس سے پشاور شہر اور جنوبی اضلاع تاریکی میں ڈوب گئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پشاور شہر میں 24 گھنٹوں میں اٹھارہ سے بیس گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے یعنی ایک گھنٹے بجلی رہتی ہے اور پھر چار گھنٹے معطل رہتی ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ دو دنوں سے مسلسل جاری ہے۔ جنوبی اضلاع سے ملنے والی اطلاعات میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں مسلسل بارہ گھنٹوں سے بجلی غائب ہے جس کی وجہ سے عوام کو سخت کرب اور اذیت کا سامنا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس اذیت ناک صورتحال سے بچنے کےلئے پنجاب کی طرف عارضی ہجرت کرنے کی سوچ رہے ہیں۔ پشاور میں پیسکو حکام کا کہنا ہے کہ ٹرانسمیشن لائن کے مرمت میں ایک سے دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ایک اہلکار کے مطابق کہ ٹاور کی مرمت پر پچاس سے زائد فنی ماہرین نے دن رات کام شروع کردیا ہے جبکہ تین پیسکو انجنئیرز کو شاہی باغ گرڈ سٹیشن میں نگرانی کے لیے تعینات کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس پاور ٹاور کو نشانہ بنایا گیا ہے اس کی چوڑائی چالیس فٹ جبکہ لمبائی ایک سو بیس فٹ ہے اور اس کا بیشتر حصہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس لیے مرمت اور مکمل بحالی میں زیادہ وقت درکار ہوگا۔ اس واقعہ کے بعد پشاور میں شدید گرمی کی وجہ سے شہری سڑکوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ کاروبار زندگی بھی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ شہر میں زیادہ تر دوکانیں یا تو صبح ہی سے بند رہتی ہیں یا پھر دوپہر کے بعد بند کر دی جاتی ہیں۔ بجلی کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے پشاور کے اکثر علاقوں میں پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں زندگی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد بچے، بوڑھے، جوان، خواتین، مریض اور طلبہ بجلی کی ترسیل معطل ہونے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ تقریبا دو ماہ کے دوران اس قسم کا واقعہ دوسری مرتبہ پیش آیا ہے۔ اس سےقبل مئی کے ماہ میں بھی اسی شیخ محمدی ٹرانسمیشن لائن کو بم دھماکوں میں اڑایا گیا تھا جسکی وجہ سے تقربناً ایک ہفتے تک بجلی کی سپلائی معطل رہی۔ تاحال کسی تنظیم یا گروہ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم مقامی انتظامیہ الزام لگاتی ہے کہ سپلائی ٹاور پر حملے میں مقامی طالبان ملوث ہوسکتے ہیں۔ اس واقعہ سے ایک روز قبل کوہاٹ روڈ پر متنی کے علاقے میں پولیس اور طالبان کے مابین جھڑپیں ہوئے تھیں جس میں ہلاکتوں کے علاوہ چند جنگجوؤں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ پچھلی مرتبہ جب ہائی ٹرانسمیشن ٹاور کو اڑایا گیا تو سرحد پولیس کے سربراہ نے کہا تھا کہ ٹاورز کی حفاظت کےلیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائی گی لیکن بظاہر اس سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں لئے گئے اور شرپسندوں نے ایک بار پھر صوبائی حکومت کے امن و امان کے حوالے سے بلند و بانگ کے دعوؤں کی قلعی کھول دی اور لاکھوں لوگوں کے آرام و سکون کو برباد کیا۔ پشاور، بونیر اور سوات میں حالیہ دنوں میں پولیس کے خلاف جاری حملوں سے بظاہر لگتا ہے کہ جیسے صوبائی حکومت ان علاقوں میں امن و امان قائم کرنے میں مفلوج ہوچکی ہوں اور پولیس خود کو بچانے میں بھی غیر موثر دکھائی دیتی ہے۔ |
اسی بارے میں ’بجلی کا بحران دس دن جاری رہے گا‘04 January, 2008 | پاکستان لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرہ01 September, 2007 | پاکستان لوڈ شیڈنگ: سڑکیں بند، مظاہرے13 June, 2007 | پاکستان سنگین نتائج برآمد ہوں گے: تاجر07 May, 2007 | پاکستان کراچی: لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج20 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||