BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 May, 2007, 22:00 GMT 03:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سنگین نتائج برآمد ہوں گے: تاجر

بجلی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے
پاکستان میں بجلی کے حالیہ بحران کے پیش نظر حکومت کی طرف سے رات آٹھ بجے دکانیں اور مارکٹیں بند کرنے کے فیصلے پر ملک کے مختلف شہروں میں تاجر برادری نے عملدرآمدکرنے سے انکار کر دیا اور زبردستی کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی رات آٹھ بجے دکانیں بند کرنے کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور شہر بھر کی مارکیٹں آٹھ بجے کے بعد بھی کھلی رہیں ۔

کراچی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کراچی میں بھی تاجروں نے رات آٹھ بجے کاروبار بند کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد کئی علاقوں میں حکومت نے رات آٹھ بجے غیر اعلانیہ طور پر بجلی کی ترسیل روک دی۔

قومی تاجر اتحاد لاہور نےاعلان کیا کہ تاجر برادری آٹھ بجے دکانیں بند کرانے کے فیصلہ پر زبردستی عمل کی صورت میں اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرئے گی۔

قومی تاجر اتحاد لاہور کے صدر عنصر محمود بٹ نے کہا ہے کہ اگرحکومت نے تاجروں کو مارکیٹں زبردستی بند کرانے کی کوشش کی تو اس سے مسائل میں اضافہ ہوگا اور تاجراحتجاج کرنےاور ہڑتال کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ تاجر معمول کے مطابق دکانیں کھلی رکھیں گے۔

عنصر محمود بٹ نے کہا کہ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے نئے ڈیم تعمیر کرتی لیکن حکومت نے ایسا کرنے کے بجائے اس معاملہ کو سیاسی رنگ دیا ہے اور اب تاجر برادری کو قربانی دینے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے۔

دریں اثناء لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی درخواست پر واپڈا نے دکانیں بند کرنے کے اوقات میں توسیع کردی ہے اور اب دکانیں آٹھ بجے کے بجائے ساڑھے آٹھ بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ بجلی کی کمی قابو پانے کے لئے دکانیں رات آٹھ بجے بند کردی جائیں گی اور اس فیصلہ پر سوموار سے عمل درآمد ہونا تھا۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے دکانیں بند کرنے کے اوقات کار میں کم از کم ایک گھنٹے کی توسیع کا مطالبہ کیا تھا۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرشاہد حسین شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی چیئرمین واپڈا طارق حمیدسے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی اور انہیں نےدکانیں بند کرنے کے اوقات میں توسیع کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مارکیٹیں کم از کم نو بجے تک کھلی رکھنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین واپڈا نے دکانیں اور مارکٹیں بند کرنے کی اوقات کار میں آدھ گھنٹے کی توسیع کردی ہے اور اب یہ دکانیں آٹھ بجے کے بجائے ساڑھے آٹھ بجے تک کھلی رکھیں جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد