بجلی کے نرخوں میں 70 فیصد اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی ( کے ای ایس سی) کے بجلی کے نرخوں میں چالیس سے ستر فیصد تک اضافہ کردیا ہے۔ وزارت پانی و بجلی حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں دو الگ الگ نوٹیفیکیشن جاری کئے ہیں جن میں کے ای ایس سی کو گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں چالیس سے ستر فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس اضافے کا اطلاق اس سال یکم اپریل سے کیا گیا ہے۔ اس طرح رواں مہینے صارفین کو جو بل موصول ہوں گے ان میں نئے اضافے کے حساب سے پچھلے چھ مہینے کے بقایہ جات بھی شامل ہوں گے جن میں گرمی عروج پر ہونے کی وجہ سے صارفین عام طور پر زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ کے ای ایس سی وفاقی حکومت کا ادارہ تھی تاہم نومبر 2005ء میں شوکت عزیز کی حکومت نے اس کمپنی کو نجی شعبے کو فروخت کردیا تھا۔ اسکے باوجود اتنے بھاری اضافے کی منظوری کیونکر دی گئی۔ اس سلسلے میں وزارت پانی و بجلی اور نیپرا کے حکام سے رابطے کی بار ہا کوشش کی گئی تاہم وہ دستیاب نہیں تھے۔ ادھر حکومت سندھ میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس اقدام پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بجائے اسکے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے جو گرم مہینوں میں کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ بھگت رہے ہیں انہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ انہیں بجلی کے بل ستر پچھتر فیصد تک زیادہ دینے ہیں تو یہ انتہائی ظلم ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اس فیصلے پر وفاقی حکومت سے اعلیٰ سطح پر بات کرے گی۔ ’ہم ان کو اپروچ بھی کر رہے ہیں اور یہ ہماری ان سے، صدر صاحب سے اور وزیر اعظم سے درخواست ہے کہ وہ اسکا فوراً نوٹس لیں اور اس مسئلے کو فی الفور حل کریں ورنہ کراچی کے شہریوں میں انتہائی بے چینی پھیلے گی۔‘ مبصرین کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے سے بجلی چوری کے رجحان میں اضافہ ہوگا جو پہلے ہی کے ای ایس سی کے مالی نقصانات کی ایک اہم وجہ ہے۔ وزارت پانی و بجلی حکومت پاکستان نے ایک اور نوٹیفیکیشن کے تحت کے ای ایس سی کو ملک میں بجلی تقسیم کرنے والی دوسری سرکاری کمپنیوں مثلاً لیسکو، حیسکو کے مساوی حیثیت دیدی ہے جس کے بعد صارفین میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو بجلی فراہم کرنے والا ادارہ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) اب کے ای ایس سی کو بھی اسی نرخ پر بجلی فراہم کرے گا جس نرخ پر وہ بجلی کی تقسیم کی ذمہ دار سرکاری کمپنیوں کو فراہم کرتا ہے۔ اس سے پہلے پیپکو کے ای ایس سی کو نجی شعبے کی تحویل میں ہونے وجہ سے زائد نرخوں پر بجلی فروخت کرتا تھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس اقدام سے کے ای ایس سی کو اربوں روپے کا فائدہ ہوگا۔ کے ای ایس سی کا انتظامی کنٹرول غیرملکی الجمیح کے پاس تھا لیکن تین ہفتے پہلے دبئی کے ادارے ابراج کیپیٹل نے کمپنی کے کنٹرولنگ شیئرز خرید لیے ہیں جس کے بعد ایک نئی انتظامیہ نے ادارے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ واضح رہے کہ کے ای ایس سی کراچی شہر کے علاوہ بلوچستان اور ضلع ٹھٹھہ کے بعض علاقوں کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ | اسی بارے میں کے ای ایس سی ابراج کے حوالے16 September, 2008 | پاکستان کراچی:بجلی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ07 April, 2008 | پاکستان بجلی بحران: کراچی میں لوڈشیڈنگ07 March, 2008 | پاکستان کراچی میں گھنٹوں بجلی منقطع06 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||