BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 September, 2008, 12:42 GMT 17:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کے ای ایس سی ابراج کے حوالے

کے ای ایس سی
گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کے باعث لوگوں میں اشتعال پایا جاتا ہے
کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ (کے ای ایس سی) کا انتظامی کنٹرول منگل کو ایک نئی غیر ملکی کمپنی کو سونپ دیا گیا ہے۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب کراچی میں بجلی کی کمی اور اسکے نتیجے میں ہونے والی طویل غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف شہر میں کچھ دنوں سے مسلسل پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔

کے ای ایس سی کے ترجمان سید سلطان احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دبئی کے ادارے اابراج کیپیٹل نے ادارے کے کنٹرولنگ شیئرز خریدنے کے بعد ادارے کا انتظام سنبھال لیا ہے جس کے بعد نئی انتظامیہ نے بھی چارج سنبھال کر کام شروع کردیا ہے۔

ان کے مطابق کے ای ایس سی کی نئی انتظامیہ چیف ایگزیکٹو آفیسر نوید اسماعیل، چیف فنانشل آفیسر جلیل کریم سمیت دوسرے افسران پر مشتمل ہے۔ وفاقی حکومت نے تین سال قبل کے ای ایس ای کوغیر ملکی کمپنی الجمیح کو فروخت کردیا تھا جس نے اب ادارے کے کنٹرولنگ شیئرز ابراج کیپیٹل کو فروخت کردئے ہیں۔

کمپنی کی جانب سے اس فیصلے کی وجوہات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔

کے ای ایس سی کراچی اور اس سے متصل صوبہ سندھ اور بلوچستان کے بعض علاقوں کو بجلی فراہم کرتا ہے۔

وفاقی حکومت نے تین سال پہلے اسے نجی شعبے میں دیدیا تھا۔ مشرق وسطی سے تعلق رکھنے والی غیرملکی کمپنی الجمیح نے ادارے کے ستر فیصد سے زائد شیئرز خرید کر اسکا کنٹرول سنبھالا تھا تاہم اب اس نے کنٹرولنگ شیئرز ابراج کیپیٹل کو بیچ دئے ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی میں پچھلے چند ہفتوں سے بجلی کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے اور کئی کئی گھنٹوں تک بجلی غائب رہنے کے خلاف صارفین میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔ لوگوں کے مشتعل ہجوموں نے حالیہ دنوں میں شہر کے مختلف علاقوں میں سرکاری اور نجی املاک پر حملے بھی کئے ہیں۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی مداخلت کے بعد وفاقی حکومت نے منگل سے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ دو گھنٹے تک محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سلسلے میں وفاقی سیکریٹری پانی و بجلی نوید اسماعیل قریشی نے گزشتہ روز کراچی کا دورہ کیا اور کے ای ایس ای کی نئی انتظامیہ سے ملاقات بھی کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ کے ای ایس سی نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اپنی بجلی کی پیداوار کم کردی تھی جس کی وجہ سے طویل لوڈ شیڈنگ کی جارہی تھی تاہم نئی انتظامیہ نے عید الفطر تک اپنی پوری استعداد کے مطابق بجلی کی پیداوار کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وفاقی حکومت نے آئندہ سال اپریل تک کے ای ایس ای کو آٹھ سو میگاواٹ بجلی کی فراہمی کا بندوبست کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد