چار ارب کے بقایا جات، وصولی مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے اپنے چار ارب روپے کے واجبات کی وصولیابی کے لیے نادہندگان کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب پانی کے نرخ میں بھی نو فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ واٹر بورڈ نے منگل سے شروع ہونے والی مہم کا آغاز ایسے وقت کیا ہے جب اسے خود بھی کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی سے پونے پانچ ارب روپے واجبات کی ادائیگی کا نوٹس ملا ہے جس میں واٹر بورڈ کو ایک ہفتے میں ادائیگی کی مہلت دی گئی ہے۔ واٹر بورڈ کے حال ہی میں تعینات شدہ مینجنگ ڈائریکٹر سلیمان چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا کہ کے ای ایس سی نے واٹر بورڈ سے کہا ہے کہ اگر انہیں ایک ہفتہ میں واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی تو وہ شہر میں مختلف جگہ نصب واٹر پمپنگ اسٹیشنوں کی بجلی منقطع کردیں گے جس سے پانی کی فراہمی میں تعطل پیدا ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اسی وجہ سے مہم کا آغاز کردیا گیا ہے تاکہ واٹر بورڈ اپنے واجبات وصول کرنے کے بعد جتنا بھی ممکن ہو کے ای ایس سی کو ادائیگی کر دے تاکہ بجلی منقطع نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ’واٹر بورڈ کے نادہندگان میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ادارے، کنٹونمنٹ بورڈز، اور دیگر ادارے شامل ہیں اور ان پر ہمارے چار ارب روپے کے واجبات ہیں جو ہمیں وصول کرنا ہیں کیونکہ ان ہی واجبات کی عدم وصولی کی وجہ سے کے ای ایس سی کو ہم ادائیگی نہیں کر سکے‘۔ ان کے بقول یہ مہم گھریلو اور تجارتی دونوں قسم کے صارفین کے خلاف چلائی جا رہی ہے لیکن ابھی اس کا آغاز تجارتی صارفین سے ہوا ہے کیونکہ ان کو واجبات کی ادائیگی کی آخری تاریخ گزشتہ اتوار تک دی گئی تھی جبکہ گھریلو صارفین کو واجبات کی ادائیگی کی آخری تاریخ تیس جون دی گئی ہے۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے بتایا کہ انیس سو اٹھانوے سے اب تک واٹر بورڈ نے پانی کے نرخ میں اضافہ نہیں کیا تھا اور ان دس سالوں کے دوران کے ای ایس سی کے واجبات جو واٹر بورڈ نے ادا کرنے ہیں تقریباً پونے پانچ ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، اس کے علاوہ اس دوران تنخواہوں میں بھی اضافہ ہوا اور پٹرول کے ریٹ میں بھی کئی گنا بڑھ گئے، لہذٰا مہنگائی کے باعث اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے، ان تمام وجوہات کی بناء پر واٹر بورڈ نو فیصد نرخ بڑھانے پر مجبور ہے، اور یہ فیصلہ سندھ حکومت کی رضامندی کے بعد کیا گیا ہے۔ سلیمان چانڈیو نے بتایا کہ پانی کے نرخوں میں نو فیصد اضافہ جولائی کے مہینے کی پہلی تاریخ سے نافذالعمل ہوگا اور صارفین کے بل میں ریٹ بڑھانے کی مد میں کسی قسم کے بقایاجات نہیں لگائے جائیں گے۔ پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی اور صنعتی شہر کراچی میں جہاں ایک جانب عوام بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں وہیں دوسری جانب پانی کی فراہمی کے ناقص نظام سے بھی نالاں ہیں اور دونوں ہی ادارے نادہندگان کے خلاف مہم بھی چلا رہے ہیں اور اپنے نرخوں میں بھی اضافہ کررہے ہیں۔ کے ای ایس سی کو بتیس ارب روپے کے واجبات مختلف اداروں اور انفرادی صارفین سے وصول کرنا ہیں جبکہ آخری بار بجلی کے نرخوں میں اضافہ گذشتہ مارچ کے مہینے میں کیا گیا تھا اور اب نیپرا یعنی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہر ماہ بجلی کے نرخوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ حکام کے مطابق کے ای ایس سی کی دو ہزار پانچ میں نجکاری کے بعد اب نجی مالکان نے اپنے حصے کے تہتر فیصد شئیرز میں سے پچاس فیصد کویتی کمپنی کو فروخت کردیے ہیں جس کے بعد نئے مالکان کی جانب سے کے ای ایس سی کی انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی متوقع ہے۔ | اسی بارے میں ’کالا باغ ڈیم کی ضرورت نہیں‘ 26 May, 2008 | پاکستان بجلی بحران:گھڑیاں آگے، دکانیں جلد بند14 May, 2008 | پاکستان ایمرجنسی لائٹس کے استعمال میں اضافہ13 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||