بجلی بحران:گھڑیاں آگے، دکانیں جلد بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان نے بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے جہاں ہنگامی بنیادوں پر بارہ سو میگا واٹ نئی بجلی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہاں بجلی بچانے کے لیے یکم جون سےگھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ اعلان بدھ کو کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِ پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ وزیر اطلاعات شیری رحمٰن کے ہمراہ نیوز بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم سیکریٹریٹ سمیت تمام سرکاری دفاتر میں صبح آٹھ بجے سے گیارہ بجے تک ایئرکنڈیشنڈ بند رکھے جائیں گے۔ جب ان سے پوچھ ا کہ اس پر عمل درآمد اور نگرانی کون کرے گا تو راجہ پرویز اشرف نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہویے کہا کہ ’مانیٹرنگ آپ کریں گے، ہم کریں گے‘۔ جس پر صحافیوں نے ان سے کہا کہ ایوان صدر یا وزیراعظم سیکریٹریٹ میں تو انہیں داخل نہیں ہونے دیا جاتا تو وہ کیسے مانیٹر کریں گے تو شیری رحمٰن نے کہا کہ’وزراء کے دفاتر میں آ جائیے گا‘۔ راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ تاجر تنظیموں سے مل کر اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام شاپنگ سینٹرز اور مارکیٹوں میں دوکانیں رات نو بجے بند کر دی جائیں اور تمام تاجر اپنی ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو کریں اور اتوار کو کاروبار کھلے رکھیں۔ ان کے مطابق سائن بورڈ اور بل بورڈز کے لیے آئندہ واپڈا بجلی فراہم نہیں کرے گا اور متعلقہ کمپنیاں چاہیں تو شمسی توانائی کے تحت بجلی کا خود بندوبست کریں۔ پانی و بجلی کے وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سٹریٹ لائٹس بھی نصف استعمال ہوں گی۔ ان کے مطابق ایک کھمبا بند ہوگا دوسرا روشن رہے گا جس سے پانچ سو میگا واٹ کی بجلی بچائی جاسکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے فوری طور پر انٹرنینشل ٹینڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں بجلی کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے نیپرا کے مقررہ کردہ نرخوں پر نجی پاور کمپنیوں کو بارہ سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے فوری بجلی گھر لگانے کی پیشکش کی جائے گی۔ ان کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت میڈیا کے نمائندوں کے سامنے یہ ٹینڈر کھولے گی تاکہ پورے عمل کو شفاف رکھا جاسکے اور کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ پاکستان کو چار ہزار میگا واٹ کی بجلی کی کمی کا سامنا ہے اور حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے کہ آئندہ سال کے آخر تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک کے ذریعے ایک کروڑ انرجی سیور بلب منگوائے جا رہے ہیں تاکہ کوالٹی اور خریداری میں شفافیت کے پہلو کو یقینی بنایا جاسکے۔پانی و بجلی کے وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ جو بھی مالی استطاعت رکھتا ہے وہ اپنے گھر اور دفاتر میں انرجی سیور بلب لگائیں۔ ان کے بقول پندرہ واٹ کا انرجی سیور بلب ساٹھ واٹ کے عام بلب کے برابر روشنی فراہم کرتا ہے، جس سے ایک طرف بجلی بچے گی دوسری طرف متعلقہ شخص کا بجلی کا بل بھی کم ہوجائے گا۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||