عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | کالا باغ ڈیم کے خلاف صوبۂ ’پختونخواہ‘ اور صوبہ سندھ نے قراردادریں پیش کی ہیں |
وفاقی وزیر بجلی و پانی راجہ پرویز اشرف نےکہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ متنازعہ ہے اور فی الحال اس کی ضرورت نہیں ہے۔ واپڈا ہاؤس میں ہونے والی پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف صوبۂ ’پختونخواہ‘(سرحد) اور صوبہ سندھ نے قراردادریں پیش کی ہیں۔ یہ ملک کی اکائیاں اور ان دونوں اہم صوبوں کے جذبات کی نفی نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بجلی کے بحران پر دیگر منصوبوں پر عمل درآمد کر کے قابو پاسکتا ہے تو نئی بحث شروع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ان کے بقول کالا باغ ڈیم پر گزشتہ پندرہ سال میں ماسوائے بحث کرنے کے کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم وہ منصوبے شروع کریں جس سے وفاق پاکستان کے درمیان محبت آغاز ہو نفرت نہیں۔ راجہ پرویز اشرف کے بقول کالا باغ ڈیم کے لیے مختص رقم کو توانائی پیدا کرنے کے دیگر منصوبوں پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک کالا باغ ڈیم کا تعلق ہے تو پیپلز پارٹی وفاق پاکستان پر یقین رکھتی ہے اور وفاق پاکستان میں کسی قسم کی دراڑ اور منافی بات ہمارے لیے تکلیف دہ ہے۔ وفاقی وزیر بجلی اور پانی نے دعویْ کیا ہے کہ آئندہ سال کے اختتام پر ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوجائے گا اور پاکستان سےہمیشہ کے لیے لوڈشیڈنگ کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے نو برسوں میں ملک میں بجلی پیدا نہیں ہوئی اور بجلی کا بحران ایک چیلنج کے طور پر موجودہ حکومت کے لیے سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس بحران کو حل کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے ہیں۔
 | | | سندھ میں کالا باغ ڈیم کے خلاف مظاہرہ |
ان کا کہنا ہے کہ یکم جون سے مارکیٹیں رات نو بجے بند کردی جائیں گے اور یہ عمل اس سال تیس اگست تک جاری رہے گا جبکہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ سائن بورڈ اور بل بورڈز کے لیے واپڈا بجلی فراہم نہیں کرے گا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ تمام سرکاری دفاتر میں صبح آٹھ بجے سے گیارہ بجے تک ایئرکنڈیشنڈ بند رکھے جائیں گے اور سٹریٹ لائٹس بھی نصف استعمال ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کھمبا بند ہوگا دوسرا روشن رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ صنعتی یونٹ ہفتہ وار تعطیل ایک دن کرنے کے بجائے متبادل دنوں پر کریں۔ ان کے بقول گھڑی کا ایک گھنٹہ آگے کرنے سے بجلی کی بچت ہوگی۔ راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ حکومت توانائی کے بحران پر ہنگامی بنیادوں پر قابو پانے کے لیے حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے اور اب تین سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا بلکہ ایک سال میں توانائی کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران جب راجہ پرویز اشرف صوبہ سرحد کا ذکر کرتے اس کے لیے پختونخواہ کا نام استعمال کیا تو اس پر صحافیوں نے اس کی نشاندہی کی جس پر انہوں نے کہا کہ اگر اس نام سے ان کے بھائی خوش ہوتے ہیں تو کسی کیا اعتزاض ہے۔ |