BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 June, 2008, 02:37 GMT 07:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمرجنسی لائٹس کے استعمال میں اضافہ

ایمرجنسی لائٹس
لوڈشیڈنگ میں اضافے کے باعث ایمرجنسی لائٹس کی مانگ بڑھ رہی ہے
ملک میں توانائی کے بحران اور لوڈشیڈنگ میں اضافے کی وجہ سے پشاور میں گھریلو استعمال کی ایمرجنسی لائٹس کے استعمال میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کی قمیتیں بھی بتدریج بڑھ رہی ہیں۔

پشاور میں ایمرجنسی لائٹس کی خرید وفروخت کا سب سے بڑا مرکز کارخانو مارکیٹ تصور کیا جاتاہے جہاں تاجر اس کاروبار میں مسلسل منافع کے باعث ان کے لیے اب علیحدہ علیحدہ دکانیں قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس مارکیٹ میں داخل ہوتے ہی آپ کو ہر طرف چھوٹے چھوٹے کھوکھے نظر آئیں گے جہاں کئی قسم کے گھریلو استعمال کی ایمرجنسی لائٹس خوبصورت طریقے سے سجائی گئی ہیں۔ ان میں چھوٹے ، بڑے اور پاکٹ سائز کی مختلف لائٹس دستیاب ہیں جن میں اکثریت چائنا کی بنی ہوئی ایمرجنسی لائٹس کی ہے۔

مارکیٹ میں دوسری دکانوں کے مقابلے میں ان کھوکوں پر خریداروں کا رش زیادہ دیکھائی دیتا ہے۔

اگرچہ ان دکانوں میں الیکٹرانکس کا دیگر سامان بھی فروخت کیا جاتا ہے تاہم دکانداروں کا کہنا ہے کہ آجکل لوڈشیڈنگ میں اضافے کے باعث ایمرجنسی لائٹس کی مانگ بڑھ رہی ہے اور اس کاروبار میں اچھا منافع بھی مل رہا ہے۔

ایمرجنسی لائٹس
پشاورر میں ایمرجنسی لائٹس خریدنے دوسرے شہروں سے لوگ آتے ہیں

ایک دکاندار ابوبکر نے بتایا کہ آجکل پاکستان کے تمام شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے لوڈشیڈ نگ ہو رہی ہے اور لوگوں کو رات کے وقت ایمرجنسی لائٹس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ چند ماہ میں ایمرجنسی لائٹس کی مانگ اتنی بڑھی ہے کہ اب تو دکاندار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس کے لیے علیحدہ کھوکھے قائم کئے جائیں جس میں لائٹس کے علاوہ اور کوئی چیز نہ ہو۔‘

ویسے تو مارکیٹ میں ایمرجنسی لائٹس کی کئی اقسام دستیاب ہیں لیکن ان میں دکانداروں کے مطابق ’بازوکہ اور ایکو‘ ایمرجسنی لائٹس دوسرے برانڈز کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہیں۔

ایک دکاندار حسرت اللہ کے مطابق ان دو لائٹس کو لوگ گھروں اور دکانوں میں استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں لائٹس کی قیمتیں پہلے چار سو اور آٹھ سو روپے کے درمیان تھیں لیکن آجکل یہ قیمتیں باالترتیب سات سے لیکر گیارہ سو روپے تک جا پہنچی ہیں۔

ایمرجنسی لائٹس
ایمرجنسی لائٹس کی قمیتیں بھی بتدریج بڑھ رہی ہیں

عام طورپر بازوکہ لائٹس دو راڈز کی بنی ہوتی ہیں جو تقریباً پانچ گھنٹے تک کام کرتی ہیں جبکہ ایکو لائٹ میں ایک درجن کے قریب چھوٹے چھوٹے بلب ہوتے ہیں اور جو تقریباً چالیس گھنٹے تک روشن رہتے ہیں۔

کارخانو مارکیٹ میں ان لائٹس کے خریدار زیادہ تر پنجاب اور ملک کے دیگر سے شہروں سے آتے ہیں۔ روالپنڈی سے آئے ہوئے ایک خریدار رانا نوید نے بتایا کہ اب تو ملک کے تمام شہروں میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ہے اور یہ بہت جلد حل ہونے والا بھی نہیں اس لیے وہ ایمرجنسی لائٹس خریدنے آئے ہیں۔

انہوں نے پوچھنے پر بتایا کہ ’ایمرجنسی لائٹس تو پنجاب میں بھی دستیاب ہیں لیکن پشاور کے کارخانو مارکیٹ میں چیزیں سستی اور اصلی مل جاتی ہیں اور اس کے علاوہ سیر بھی ہوجاتی ہے۔‘

پشاور میں لوڈشیڈنگ میں بڑھتے ہوئے اضافے نے جہاں ایمرجنسی لائٹس کے استعمال میں اضافہ کیا ہے وہاں بجلی پیدا کرنے والے جنریٹروں کی خرید و فروخت بھی بڑھی ہے۔ جنریٹروں کی مانگ میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تو بعض نجی کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے انعامی سکیمیں شروع کر رکھی ہیں اور انعام نکلنے پر خریداروں کو جنریٹرز دیئے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد