BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 September, 2008, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ، بجلی نرخ میں اضافہ چیلنج

نیپرا اور ہیسکو
سندھ میں بجلی کے نرخ فیصل آباد سے بیالیس اور لاہور سے پینتالیس فیصد زیادہ ہیں
سندھ حکومت نے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں بجلی کے نرخ زیادہ مقرر کرنے کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کردی ہے۔

صوبائی محکمہ آبپاشی اور بجلی کی جانب سے اس پٹیشن میں وفاقی سیکریٹری محکمہ بجلی اور پانی، نیپرا اور کراچی کے علاوہ صوبے بھر میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کو فریق بنایا گیا ہے۔

پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ملکی آئین تمام شہریوں کو برابر کے حقوق فراہم کرتا ہے، مگر نیشنل الیکٹرک پاور ریگیولرٹری اتھارٹی یعنی نیپرا نے چھ فروری کو بجلی کے نرخ طے کرتے ہوئے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ کے صارفین کے لئے زائد نرخ مقرر کیے ہیں۔ پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ نرخ فیصل آباد پاور کمپنی سے بیالیس اور لاہور پاور کمپنی سے پینتالیس فیصد زیادہ ہیں۔

درخواست کے مطابق یہ ایک امتیازی سلوک ہے جس سے عام شہریوں کے ساتھ صوبائی حکومت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ سندھ کے وزیراعلٰی سید قائم علی شاہ نے اس حوالے سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا جس کے جواب میں وزارت پانی اور بجلی کا کہنا ہے کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لائن لاسز(نقصانات) زیادہ ہیں اس لیے اس کے نرخ زیادہ مقرر کیے گئے ہیں۔

سندھ حکومت کا موقف ہے کہ جب پیٹرول کے نرخ پورے ملک میں یکساں ہیں تو بجلی کی نرخ بھی اسی طرح طے کیے جائیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ صوبہ سندھ میں بھی وہ ہی نرخ مقرر کیے جائیں جو دیگر صوبوں کے لیے مقرر ہیں۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے انفراسٹرکچر ٹیکس کی وصولی کو جائز قرار دے دیا ہے جس سے صوبے کو اس مد میں ڈیڑھ ارب روپے وصول ہوں گے۔

 سندھ کے وزیراعلٰی سید قائم علی شاہ نے اس حوالے سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا جس کے جواب میں وزارت پانی اور بجلی کا کہنا ہے کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لائن لاسز زیادہ ہیں اس لیے اس کے نرخ زیادہ مقرر کیے گئے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے دوسرے دور حکومت انیس سو چورانوے میں صوبائی حکومت نے بندرگاہوں اور ایئرپورٹ کے ذریعے بیرون ملک سے آنے والے صنعتی اور تجارتی سامان پر ڈیڑھ فیصد ٹیکس نافذ کیا تھا، جس کے خلاف تین سو سے زائد صنعتکاروں اور تاجروں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے ان اعتراضات کو رد کیا جس کے خلاف انہوں نے ڈویزن بینچ میں اپیل دائر کی تھی جس پر عدالت نے ٹیکس کی وصولی پر حکم امتناعی جاری کردیا تھا۔

صنعتکاروں اور تاجروں کے وکلا خالد انور، عبدالغفور منگی اور فروغ نسیم کا موقف تھا کہ درخواست گذار پہلے ہی کسٹم ڈیوٹی ادا کرتے ہیں جس وجہ سے ان پر انفراسٹرکچر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔

صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکٹ جنرل فتاح ملک نے موقف اختیار کیا کہ کسٹم ڈیوٹی وفاق وصول کرتا ہے اندرون ملک ترسیل کے لیئے سندھ کے روڈ رستے استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ پولیس اور رینجرز سیکیورٹی فراہم کرتی یہ خرچہ صوبائی حکومت برداشت کرتی ہے۔

جسٹس قاضی خالد اور جسٹس مسز قیصر اقبال پر مشتمل ڈویزن بینچ نے اپیل کو خارج کرکے ٹیکس کو جائز قرار دے دیا۔

اسی بارے میں
کے ای ایس سی ابراج کے حوالے
16 September, 2008 | پاکستان
بجلی کی ریکارڈ قلت ختم
27 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد