بجلی کا بحران شدید تر ہو گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اس ہفتے شروع ہونے والے بجلی کے تازہ بحران کی شدت میں کمی کی بجائے جمعرات کے روز اس میں اضافہ ہوگیا ہے۔ مختلف شہروں سے بجلی سپلائی کرنے والے ادارے اور حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ کئی اضلاع میں چھوٹے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے سڑکیں بلاک کی گئیں اور بجلی کی فراہمی کے ادارے واپڈا کے دفاتر پر حملے کیے گئے۔ پاکستان دسمبر کے مہینے سے بجلی کے بحران کا شکار ہے اور گزشتہ آٹھ مہینوں سے شہریوں کو کم از کم چھ گھنٹے روزانہ کی لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا پڑ رہی تھی۔ لیکن تین چار روز سے اچانک لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ غیر معمولی ہوچکاہے اور جو کئی علاقوں میں سولہ گھنٹے تک گیا۔ پاکستان کو روزانہ سولہ ہزار میگاواٹ درکارہوتے ہیں۔ واپڈا ذرائع کاکہناہے کہ کل طلب ورسد میں پونے پانچ ہزار میگا واٹ کی کمی رہی۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ ادائیگیوں میں تعطل کی وجہ سے کئی نجی اداروں نے بجلی کی پیدوار بند کردی ہے جبکہ ایک بڑی وجہ بجلی پیداکرنے والے یونٹوں کو تیل کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔ بجلی سپلائی کے ادارے پیپکو کے ڈائریکٹر جنرل انرجی مینجمنٹ طاہر بشارت چیمہ نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام نجی اور پبلک پاور پلانٹس کام کررہے ہیں البتہ تیل کی فراہمی کے سلسلے میں معمولی رکاوٹیں ضرور پیش آرہی ہیں۔ طاہر بشارت چیمہ نے طلب میں اضافہ کو قلت کی بڑی وجہ طلب میں اضافہ ہے۔ وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے پرسوں کہا تھا کہ تخریب کاری کی وجہ سے پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی بند ہونے سے حالیہ بحران پیدا ہوا لیکن گیس پائپ لائن کی مرمت کے باوجود بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی نہیں ہوئی۔ گیس کی فراہمی کے اس تعطل سے تیرہ سو میگا واٹ روزانہ کی مزید قلت ہوئی ہے۔ واپڈا حکام کاکہنا ہےکہ اس مرمت کے مثبت اثرات آنے میں ایک دن مزید لگ سکتا ہے۔ پیپکوکے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ اگلے برس اپریل سے پہلے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہے البتہ چند روز منگلا میں پانی کے ذخائر میں اضافہ اور تیل کی فراہمی درست ہونے سے میں لوڈ شیڈنگ کے اوقات کم ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان میں افطار اور سحر کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی۔ پیپکو کے ڈی جی بشارت چیمہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بجلی کی سپلائی بحال رکھنے کے لیے اس کے نرخوں میں اضافہ ضروری ہے اور ان کے بقول بجلی کی قیمت میں اکسٹھ فی صد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی قلت کے ساتھ ساتھ نرخوں میں اضافہ ملک عام شہریوں کے زندگی اور ملک کی اقتصادی صورتحال پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ | اسی بارے میں کرائے پر بجلی گھر، کالا باغ نہیں08 May, 2008 | پاکستان ایمرجنسی لائٹس کے استعمال میں اضافہ13 June, 2008 | پاکستان بجلی کی ریکارڈ قلت ختم27 June, 2008 | پاکستان بجلی بحران:گھڑیاں آگے، دکانیں جلد بند14 May, 2008 | پاکستان فیصل آباد: صنعت کاروں کی دھمکی 04 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||