BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 October, 2008, 12:25 GMT 17:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بجلی کے نئے نرخوں کا ازسرِنو جائزہ

راجہ پرویز اشرف
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سال سے بجلی کا کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا
پاکستانی حکومت نے بجلی کے نرخوں میں اضافے سے متعلق حالیہ فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے اور ان نرخوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا صارفین سے مقررہ تاریخ پر بجلی کا بل جمع نہ کروانے پر سر چارج وصول نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی کمی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور حکومت اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کر رہی ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ صدر اور وزیر اعظم نے اُن کی سربراہی میں اراکین پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس حوالے سے مختلف امور پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکلتا اُس وقت تک اس کمیٹی کے اجلاس جاری رہیں گے۔

پانی وبجلی کے وزیر نے کہا کہ اس اجلاس میں بجلی کی قیمت کا تعین کرنے والا ادارہ نیپرا، پیٹرولیم، خزانہ، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ اور دوسرے شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی مدعو کیا جائے گا اور اگر اُن کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت زیادہ تر بجلی تیل سے پیدا کی جا رہی ہے جبکہ گیس میں کمی کی وجہ سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں سات ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آئندہ سال بھاشا ڈیم کا افتتاح ہو جائے گا جہاں سے بھی بجلی کی پیداوار شروع کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کو ٹھیکہ دیا جو 1500 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سال سے بجلی کا کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ملک میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت ایسے منصوبے شروع کرنا چاہتی ہے جس سے ملک بجلی پیدا کرنے میں خودکفیل ہو۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں بجلی کی بندش اور بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کی وجہ سے پرتشدد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور بجلی کی بندش کی وجہ سے متعدد صنعتیں بھی بند ہوچکی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد