’شرائط معاشی سے زیادہ سیاسی ہو سکتی ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دوست ممالک پر مشتمل ’فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان‘ سے مالی امداد ملنے کی توقعات تقریباً ختم ہو جانے کے بعد انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کے اقتصادی ماہرین کے اگلے ہدف کے طور پر سامنے آ رہا ہے جسے پانچ برس قبل پاکستانی حکومت نے نہایت حقارت سے دھتکار دیا تھا۔ وزیر خزانہ شوکت عزیز نے سنہ دو ہزار چار میں اپنی بجٹ تقریرمیں جذبات سے بھرپور لہجے میں کہا تھا ’ہم آج کشکول توڑ رہے ہیں۔ میں آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکلنے کا اعلان کرتا ہوں۔ آج سے پاکستان امداد لینے والا نہیں بلکہ امداد دینے والا ملک بن جائے گا۔ اب ہمارے حکمرانوں کو آئی ایم ایف یا کسی دوسرے ادارے کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔‘ منگل کے روز پاکستان کے اقتصادی مشیر کی سربراہی میں وزارت خزانہ کے افسران دبئی میں آئی ایم ایف کے ایک وفد کو پاکستان کی معاشی صورتحال اور کلیدی اعداد و شمار سے آگاہ کر رہے ہیں تاکہ انہیں پاکستان کو قرض دینے پر رضامند کیا جا سکے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دبئی میں ہونے والی اس ملاقات کا مقصد قرض کے حصول یا آئی ایم ایف کے پروگرام میں شمولیت نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد آئی ایم ایف کے باب چہارم کے تحت ہونے والے اس تبادلہ خیال کا مقصد آئی ایم ایف سے پاکستان کی معاشی صورتحال پر ماہرانہ رائے لینا اور اسے درست کرنے کے اقدامات پر مشاورت کرنا ہے۔ تاہم ’فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان‘ کی طرح آئی ایم ایف کے ساتھ اس مشاورت کو بھی حکومت اس طرح پیش کر رہی ہے کہ یہ ادارہ بھی پاکستان کو ڈالر دینے پر تلا بیٹھا ہے اور کوئی وقت آتا ہے کہ پاکستان میں دوبارہ ڈالر کی ریل پیل ہو گی۔ فرینڈز آف پاکستان کے حوالے سے اس خوش فہمی کو امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ باؤچر نے دور کیا جب انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس گروپ سے براہ راست مالی امداد کی توقع غلط ہے۔ وزارت خزانہ میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ افسران کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کے علم میں یہ بات شروع دن سے تھی کہ فرینڈز آف پاکستان ایسا فورم نہیں کہ جس سے پاکستان کو فوری طور پر مالی امداد ملنے کی توقع ہو۔ اسکے باوجود میڈیا کے ذریعے یہ تاثر عام کرنے کا مقصد پاکستانی مارکیٹ میں روپے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا تھا۔ اسی طرح آئی ایم ایف نے بھی ابھی تک پاکستان کو اپنے پروگرام میں لینے کے لئے کوئی عندیہ نہیں دیا جبکہ منگل کے تمام مقامی اخبارات نے یہ خبر نمایاں طور پر شائع کی ہے کہ آئی ایم ایف آسان شرائط پر پاکستان کو پانچ ارب ڈالر دینے پر رضامند ہے۔ کچھ اسی طرح کی خبریں پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے آصف علی زرداری کے اولین دورہ سعودی عرب کے بعد پھیلائی گئی تھیں۔ کہا جا رہا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کو تین ارب ڈالر اُدھار تیل کی صورت میں دینے پر رضامند ہو گیا ہے۔ اس ’ڈس انفارمیشن‘ کی ایک اور مثال صدر مملکت کا دورہ چین تھا جس کے دوران کہا جا رہا تھا کہ چین اپنے دو ہزار ارب ڈالر کے زر مبادلہ کے ذخائر میں سے چند ارب ڈالر پاکستان کے بنکاری نظام میں چند ماہ کے لئے ڈالنے پر رضامند ہو گیا ہے۔ لیکن ان سب خوش خیالیوں کی قلعی بہت جلد کھل گئی اور ان میں سے کوئی بھی خبر پاکستانی کرنسی مارکیٹ میں جاری ہیجان کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اب معاملات آئی ایم ایف کے پروگرام کے ساتھ منسلک کیے جا رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ شوکت عزیز نے آئی ایم ایف کا پروگرام ختم ہونے پر جس طرح سے اسکا اعلان کیا اس سے یہ تاثر ملا کہ آئی ایم ایف ایک جلاد ہے جس سے نجات ملکوں کی معاشی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ شوکت عزیز نے جس طرح کشکول توڑنے کا اعلان کیا اس سے یہ تاثر بھی ملا کے اس کے بعد حکومت پاکستان نے بیرونی دنیا سے قرض لینے کا سلسلہ بند کر دیا۔ لیکن درحقیقیت شوکت عزیز کے نو سالہ دور وزارت خزانہ اور وزارت عظمٰی کے دوران پاکستان نے جتنا قرضہ مختلف بانڈز کے اجراء اور بینکوں اور ممالک سے کمرشل قرض کی صورت میں لیا اسکی مالیت نوے کی دہائی میں حاصل شدہ قرضے سے کہیں زیادہ بنتی ہے۔ اسکے علاوہ آئی ایم ایف کو قابل ادا تین سے پانچ فیصد شرح سود کے مقابلے میں شوکت عزیز نے جو کم مدتی قرضے اس دوران حاصل کیے ان میں سے بعض کی شرح سود اٹھارہ فیصد تک تھی۔ یہ مہنگے قرضے پاکستان کے مالیاتی نظام پر اضافی بوجھ کا باعث بنے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ قرض آئی ایم ایف سے لیا جائے یا کمرشل بینکوں سے بات ان شرائط کی ہے جو یہ قرضے حاصل کرتے وقت فریقین کے درمیان طے ہوتی ہیں۔ انیس سو ستانوے میں آئی ایم ایف سے قرضہ لینے والے وزیرخزانہ سرتاج عزیز نے بتایا کہ جو پروگرام انہوں نے شروع کیا اور جسے شوکت عزیز نے فخریہ انداز میں ختم کرنے کا اعلان کیا وہ پاکستان میں معاشی استحکام اور غربت کے خاتمے کے لئے بہت کم سود پر ملنے والا قرض تھا۔ اس پروگرام کے ساتھ جو شرائط منسلک کی گئی تھیں ان میں مالیاتی خسارے اور انتظامی اخراجات کو کم کرنا شامل تھا۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ جب آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کے حصول کی تفصیلات طے ہوتی ہیں تو یہ ادارہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ بجلی یا گیس کے نرخ بڑھائے جائیں یا مختلف مدوں میں عوام کو دی جانے والی رعایتیں یا سبسڈی ختم کی جائیں۔ لیکن جب حکومت مالیاتی خسارے اور انتظامی اخراجات کو کم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پھر یہ ادارہ اس نوعیت کے اقدامات صرف تجویز کرتا ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان کے لیے اس موقع پر آئی ایم ایف سے آسان شرائط پر قرض کا حصول آسان نہیں ہوگا۔ انکے خیال میں اس حوالے سے امریکہ اور دیگر اہم ممالک کی مداخلت ہی پاکستان کو آئی ایم ایف سے مالی امداد دلا سکتی ہے۔ جب شوکت عزیز نے آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تو اس وقت پاکستان کو غربت کے خاتمے کے لئے آسان شرائط پر قرض مل رہا تھا۔ لیکن موجودہ حالات میں پاکستان کو اس پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی سہولت حاصل نہیں ہو گی۔ اس وقت جو آپشن بعض ماہرین کی نظر میں پاکستان کو دیا جائے گا وہ ہنگامی امداد اور ہنگامی شرائط کے ساتھ ہوگا۔ اسکے ساتھ جو شرائط منسلک ہوں گی وہ ماہرین کی نظر میں معاشی سے زیادہ سیاسی ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ نوے کی دہائی کے مقابلے میں اس وقت بجلی اور گیس کے نرخ بلند ترین سطح پر ہیں اور پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ایسے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں پاکستان کی پالیسی، آئی ایم ایف سے قرض کے حصول میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ |
اسی بارے میں کیش ریزرو 6 فیصد کردی گئی17 October, 2008 | پاکستان کے ایس ای: حکومتی یقین دہانی15 October, 2008 | پاکستان زرِمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی25 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||