بجلی کے بعد اب گیس کا بحران؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی ماہ سے جاری بجلی کے بحران کے بعد موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان میں گیس کی لوڈشیڈنگ کے لیے بھی حکومت نے منصوبہ تیار کر لیا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ ماہ سے گھریلوں اور صنعتی صارفین کو بجلی کی طرح گیس کی لوڈ شیڈنگ کا بھی سامنے کرنا پڑے گا۔ پاکستان کی وزارت قدرتی وسائل کے بعض افسران کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس سال سردیوں میں گیس کے استعمال کے بارے میں جو پالیسی لائن دی ہے اس میں خامیوں کے باعث اس بار پچھلے سال کی نسبت اس برس گیس لوڈشیڈنگ کا زیادہ شکار گھریلوں صارفین ہوں گے۔ پاکستان قدرتی گیس پیدا کرنے والے چند بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے جہاں تین ارب کیوبک فٹ گیس روزانہ پیدا ہوتی ہے۔ لیکن گزشتہ کئی برسوں سے اس پیداوار میں بڑھتی ہوئی ضرورت کے مطابق اضافہ نہ کیے جانے سے موسم سرما میں ملک میں گیس کی پیدوار اور کھپت میں کمی ہو جاتی ہے جس میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ وزارت قدرتی وسائل کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس سال یہ اضافہ بڑھ کر چھ سے سات سو ملین کیوبک فٹ تک پہنچ چکا ہے جو گزشتہ برس کی نسبت تیس فیصد زیادہ ہے۔ لیکن یہ افسران خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس سال ایوان صدر اور وزیراعظم سے ملنے والی ترجیحات کی روشنی میں جو ’لوڈمینمجمنٹ پلان‘ تیار کیا جا رہا ہے اس کے نفاذ کی صورت میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی لوڈشیڈنگ عملی طور پر اس تناسب سے بھی کہیں زیادہ ہوگی۔ وزارت قدرتی وسائل ہر سال موسم سرما کی آمد کے موقع پر، جبکہ گیس کے استعمال میں چالیس فیصد اضافہ ہو جاتا ہے، گیس کی لوڈشیڈنگ کا منصوبہ تیار کرتی ہے جس کی منظوری وفاقی کابینہ یا اقتصادی رابطہ کمیٹی دیا کرتی ہے۔ اس ’پلان‘ میں بتایا جاتا ہے کہ اس سال گیس کی کتنی کمی ہو گی اور اسے کس طرح پورا کیا جاتا ہے، کس شہر کے کس کیٹگری کے صارفین کو کس وقت گیس فراہم کی جائے اور کس وقت انہیں لوڈشیڈنگ کی اذیت سے گزارا جائے۔ پاکستان میں گھریلو صارفین گیس استعمال کرنے والی سب سے بڑی کیٹیگری ہیں جو گیس کی کھپت کا ستر فیصد استعمال کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر ہر سال کی روایت کے طور پر اس سال بھی سرکاری حکام نے ٹیکسٹائل صنعت کی گیس اس سال کے آغاز پر بند کر دی۔ اس صنعت میں شامل بعض بااثر سیاسی شخصیات نے اگلے روز وزیراعظم سے ملاقات کی اور وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق اگلے ہی روز ان صنعتوں کو گیس کی فراہمی بحال کر دی گئی اور اسے آنے والے دنوں میں بھی بلا روک ٹوک جاری رکھنے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔ اسی طرح بجلی کے بڑھتے ہوئے بحران کے سیاسی اثرات سے نمٹنے کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرسربراہی گزشتہ ہفتے ایک اجلاس میں ملک میں بجلی کی پیداوار کے سرکاری ادارے کو ہدایت جاری کی گئی تھی کہ گیس سے بجلی پیدا کرنے والے ایسے سرکاری اور نجی پاور پلانٹس جو گیس کی عدم فراہمی کے باعث بند پڑے تھے، انہیں فوری طور پر گیس کی بلا روک فراہمی شروع کی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے بجلی اور گیس کے استعمال میں عدم توازن کا باعث بنیں گے اور آنے والے دنوں میں حکومت گیس اور بجلی کے بحرانوں کی ایسی بھول بھلیوں کا شکار ہو سکتی ہے جسکے باعث پبلک یوٹیلیٹیز کا یہ پورا نظام ہی مفلوج ہو سکتا ہے۔ | اسی بارے میں بجلی کی بندش، احتجاج، مظاہرے14 October, 2008 | پاکستان سرحد بجلی، حکم امتناعی میں توسیع24 September, 2008 | پاکستان سندھ، بجلی نرخ میں اضافہ چیلنج17 September, 2008 | پاکستان بجلی کے نرخ اکتیس فیصدبڑھانے کافیصلہ31 August, 2008 | پاکستان بجلی کا بحران شدید تر ہو گیا28 August, 2008 | پاکستان ’صدر کا کردار علامتی ہونا چاہیے‘25 August, 2008 | پاکستان پشاور میں بجلی کی کمی سے پریشانی09 August, 2008 | پاکستان بجلی کی ریکارڈ قلت ختم27 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||