BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 August, 2008, 16:05 GMT 21:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بجلی کے نرخ اکتیس فیصدبڑھانے کافیصلہ

حال ہی میں پاکستان کے بیشتر علاقوں میں لوڈ شیڈنگ پر مظاہرے ہوئے ہیں
حکومت پاکستان نے بجلی کے نرخوں میں اکتیس فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے اور وزیر خزانہ نوید قمر کے مطابق اس کا نوٹیفیکیشن صدارتی انتخاب کے بعد جاری کیا جائے گا۔

بجلی کے نرخوں میں اس سال ہونے والا یہ چوتھا اضافہ ہے جبکہ موجودہ حکومت نے بجلی کی قیمت میں دوسری بار اضافہ کیا ہے۔

اس سے پہلے رواں مالی سال کے بجٹ میں بجلی کے صارفین پر سولہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگایا گیا تھا اور اب بجلی کے نرخ اکتیس فیصد بڑھادیے گئے ہیں۔ اس طرح اس سال یکم جولائی کے بعد بجلی کے نرخوں میں مجموعی طور سینتالیس فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتیں اور کرائے بھی بڑھ رہے ہیں اور عام آدمی کے لئے زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔

وزیر خزانہ نوید قمر کا کہنا ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کی قیمت 61 فیصد تک بڑھانے کی سفارش کی تھی تاہم حکومت نے صرف اکتیس فیصد اضافے کا فیصلہ کیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار کی لاگت بڑھی ہے اور اسکے نتیجے میں بجلی تقسیم کرنے والی سرکاری کمپنیوں کا خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے اس لئے بجلی کی فراہمی بحال رکھنے کے لئے حکومت کے پاس نرخ بڑھانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔

 حکومت اس بحران کا ذمہ دار سابق حکمرانوں کو قرار دیتی ہے جنہوں نے اس کے بقول آٹھ برس کےدوران بجلی پیدا کرنے کا کوئی یونٹ نہیں لگایا۔ واپڈا حکام کے مطابق ملک میں بجلی کی یومیہ طلب سولہ سے ساڑھے سولہ ہزار میگاواٹ ہے اور اسکے مقابلے میں چار ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔
اس سے قبل سابق صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں بننے والی نگراں حکومت نے فروری 2008ء میں بجلی کے نرخوں میں نو فیصد اضافہ کیا تھا جس کے تحت بجلی کے ہر یونٹ پر انتالیس پیسے بڑھائے گئے تھے اور مارچ 2008ء میں صارفین کی رائے معلوم کیے بغیر خاموشی سے دس پیسے فی یونٹ کے حساب سے ایک نیا ٹیکس بھی لگادیا تھا جسے این جے ایس یعنی نیلم جہلم سرچارج کا نام دیا گیا ہے۔

سرچارج کا مقصد واپڈا کے حکام کے مطابق نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ کی تکمیل کے لیے سرمایہ حاصل کرنا ہے۔ اس طرح نگراں حکومت نے بجلی کے نرخوں میں انچاس پیسے فی یونٹ یعنی گیارہ فیصد سے زیادہ اضافہ کیا تھا۔

ملک میں اس وقت بجلی کی قلت ہے اور اسے پورا کرنے کے لئے حکومت نے نہ صرف گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر رکھی ہے بلکہ شہروں میں کم سے کم چھ گھنٹے اور دیہات میں کم سے کم آٹھ گھنٹے روزانہ لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔

حکومت اس بحران کا ذمہ دار سابق حکمرانوں کو قرار دیتی ہے جنہوں نے اس کے بقول آٹھ برس کےدوران بجلی پیدا کرنے کا کوئی یونٹ نہیں لگایا۔ واپڈا حکام کے مطابق ملک میں بجلی کی یومیہ طلب سولہ سے ساڑھے سولہ ہزار میگاواٹ ہے اور اسکے مقابلے میں چار ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ حکومت بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لئے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے جس کے نتیجے میں اگلے پندرہ مہینوں میں چھ ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق بجلی کی قلت پر دسمبر تک قابو پالیا جائے گا۔

اس سلسلے میں ایران اور وسطی ایشیاء کی ریاستوں سے بجلی درآمد کی جا رہی ہے اور کرائے کے بجلی گھروں سے پانچ سو میگاواٹ بجلی فروری 2009ء تک دستیاب ہوگی۔

اسی بارے میں
بجلی کی ریکارڈ قلت ختم
27 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد