اکتوبر، بلوں پر 40 فیصد رعایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے ملک بھر میں بجلی کے صارفین کو اکتوبر میں واجب الادا بلوں پر چالیس فیصد رعایت دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ آج وفاقی وزیرِ پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہونے والی ایک خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے بعد کمیٹی کے رکن اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے صحافیوں کو بتایا کہ ستمبر کا بجلی کا بل جو اکتوبر میں ادا کیے جانے ہیں ان پر حکومت نے چالیس فیصد رعایت کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو صارفین بل ادا کرچکے ہیں انہیں آئندہ ماہ ملنے والے بل میں رعایت دی جائے گی۔ جبکہ ان کے مطابق جن صارفین نے تاحال بل ادا نہیں کیے وہ رعایتی بل ادا کردیں۔ فاروق ستار نے مزید بتایا کہ رواں ماہ واجب بلوں پر تاخیر سے بلوں کی ادائگی پر کوئی سرچارج وصول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق حکومت نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صارفین کے بلوں کی رقم سے چالیس فیصد رعایت کی کٹوتی کے بعد بل وصول کیے جائیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کے مشیرِ خزانہ شوکت ترین، وزارت پانی و بجلی، فنانس، واپڈا، کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن، پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین پارلیمان نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ ماہ بجلی کے نرخوں میں کیے گئے اضافے کے بعد تین سے چار گنہ اضافی بل ملے جس پر ملک کے مختلف شہروں میں شہریوں نے احتجاج شروع کیا اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے دفاتر میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ واپڈا اور کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے حکام نے بعد میں حکومت کے کیے گئے اضافے کے متعلق کیلکولیشن میں غلطی کا اعتراف بھی کیا۔ لیکن تاحال کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ | اسی بارے میں بجلی کے نئے نرخوں کا ازسرِنو جائزہ23 October, 2008 | پاکستان بِل جب آئے لوگ بِلبلا اٹھے 22 October, 2008 | پاکستان ’بجلی کے نرخ، صنعتی ترقی کا قتل‘21 October, 2008 | پاکستان بجلی کی بندش، احتجاج، مظاہرے14 October, 2008 | پاکستان بجلی شام کو مہنگی ، دن میں سستی14 October, 2008 | پاکستان لوڈ شیڈنگ سولہ گھنٹے تک روزانہ13 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||