BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 October, 2008, 10:08 GMT 15:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بجلی کے نرخ، صنعتی ترقی کا قتل‘

بجلی
’کے ای ایس سی اپنی نااہلی کی سزا حکومت کو نہ دے اور اپنا قبلہ درست کرے‘
پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی میں بجلی کا بحران پھر شدید ہوگیا ہے جبکہ کاروباری برادری نے حال ہی میں بڑھائے گئے بجلی کے نرخ میں اضافے کو سراسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بجلی کے بل پرانی شرح سے ہی ادا کریں گے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور اب بجلی کے نرخ میں اضافے کو صنعتی ترقی کا قتل قرار دیا ہے۔ تاجروں کا ایک وفد اس سلسلے میں جلد ہی صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کرے گا۔

کراچی ملک کا سب سے بڑا صنعتی و تجارتی شہر تصور کیا جاتا ہے لیکن یہاں بجلی کی آنکھ مچولی نے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی (کے ای ایس سی) کی جانب سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی طویل کر دیا ہے۔ اس سے گھریلو صارفین تو نالاں نظر آتے ہی ہیں لیکن اس کا زیادہ اثر صنعتی اور تجارتی صارفین پر پڑ رہا ہے جس سے تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجم نثار کا کہنا ہے کہ ملک ویسے ہی معاشی گرداب میں پھنسا ہوا ہے اور اس پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کسی تازیانے سے کم نہیں ہے۔

ان کے بقول صنعت کاروں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ قطعی قبول نہیں ہے اور کے ایس ایس سی اپنی غلطیاں اور اپنی نااہلی تاجر برادری پر ڈالنا چاہتے ہیں جس پر تاجر برادری پرزور احتجاج کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے سی سی آئی نے صدر مملکت کو خط لکھا تھا کہ وہ تاجر برادری سے ملاقات کا وقت دیں اور اس کا مثبت جواب موصول ہوگیا ہے اور تاجر برادری کا ایک وفد جلد ہی اسلام آباد روانہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قوی امید ہے کہ صدر ہمارے مسائل سنیں گے اور اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکلے گا۔

 صنعت کاروں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ قطعی قبول نہیں ہے اور کے ایس ایس سی اپنی غلطیاں اور اپنی نااہلی تاجر برادری پر ڈالنا چاہتے ہیں جس پر تاجر برادری پرزور احتجاج کرتی ہے
انجم نثار

انجم نثار نے کہا کہ اگر بجلی کی چوری پر قابو پانے پر توجہ دی جائے تو کے ای ایس سی کو اربوں روپے کی اضافی آمدنی ہو سکتی ہے لیکن یہ اس جانب توجہ دینے کے بجائے بجلی کے نرخ میں بے پناہ اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کو مسترد کیا اور کہا کہ کاروباری برادری اضافی بل ادا نہیں کرے گی۔

کے ای ایس سی نے حال ہی میں گھریلو صارفین کے بجلی کے نرخوں میں ستر فیصد سے زائد جبکہ صنعتی صارفین کے بجلی کے نرخوں میں اکتالیس فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔

اس اضافے پر شدید تنقید کرتے ہوئے انجم نثار نے کہا ’یہ اضافہ انڈسٹری کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ اس طرح کا اضافہ ترقی یافتہ ممالک تو دور کی بات کسی ترقی پذیر ملک میں بھی نہیں کیا جاتا۔‘

 شہر میں بجلی کی مانگ پیداوار سے صرف ایک سو میگاواٹ زیادہ ہے اور صرف دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے ذریعے اس کمی پر قابو پایا جارہا ہے۔ شہر میں دو گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی ہے۔
کے ای ایس سی

ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مہنگائی بڑھ گئی ہے لیکن اضافہ کرنے سے پہلے کے ای ایس سی اور حکومت ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کے ای ایس سی اپنی نااہلی کی سزا حکومت کو نہ دے اور اپنا قبلہ درست کرے۔

کے ای ایس سی کے ترجمان کاشف آفندی نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں بجلی کی مانگ پیداوار سے صرف ایک سو میگاواٹ زیادہ ہے اور صرف دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے ذریعے اس کمی پر قابو پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر میں دو گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی ہے۔

تاہم شہریوں اور دکانداروں کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں متواتر اور طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی کے مصروف ترین بازار صدر کے دکانداروں نے کے ای ایس سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر لوڈشیڈنگ ختم کرے بصورتِ دیگر کے ای ایس سی کے خلاف دھرنا اور پھر ہڑتال کی جائے گی۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی میں بدعنوانی اور بدانتظامی بڑھنے کے بعد سنہ انیس سو ننانوے میں اسے فوج کے حوالے کردیا گیا تھا اور چودہ ارب روپے کی امداد بھی دی گئی تھی۔ پھر نومبر سنہ دوہزار پانچ میں اس کی نجکاری کر دی گئی اور اسے خلیجی ممالک کی کمپنی الجمایہ گروپ نے خرید لیا۔ اُس وقت دعوے کیے گئے کہ اب سارے مسائل دور ہوجائیں گے لیکن تین سال گذرنے کے بعد بھی وہی ڈھاک کے تین پات۔

اب دو ماہ پہلے ایک کویتی کمپنی ابراج گروپ نے کے ای ایس سی کے آپریٹنگ شئیرز خرید لیے ہیں اور اب نئے مالکان کراچی کے شہریوں کو پھر دلاسہ دے رہے ہیں۔

جماعتِ اسلامی کراچی نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف جمعہ کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان ٹیلیفون پر تبادلۂ خیال ہوا جس میں ملک کے دیگر معاملات کے علاوہ کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور نرخوں میں اضافے پر بھی بات ہوئی۔

ایم کیو ایم کے مطابق الطاف حسین نے صدر زرداری کو عوام، صنعتکاروں اور تاجروں میں پائی جانے والی بے چینی اور تشویش سے آگاہ کیا۔ ایم کیو ایم کے بقول صدر آصف زرداری نے الطاف حسین کو یقین دلایا کہ وہ جلد ہی صنعتکاروں اور تاجروں سے ملاقات کر کے ان کی شکایات کو سنیں گے۔

بجلیبجلی شام کو مہنگی
استعمال کے وقت کے لحاظ سے قیمت کا تعین
بجلی اور مزاحمت
پشاورمیں بجلی تنصیبات پر حملے، عوام پریشان
کرائے پر بجلی گھر
’بجلی کابحران حل فوری ممکن نہیں‘
بجلیبجلی کا بحران
کراچی میں پانچ گھنٹے تک بجلی کی فراہمی بند
بجلیبجلی کا شدید بحران
’شہر میں دس، دیہات میں15 گھنٹے بجلی بند‘
اسی بارے میں
کے ای ایس سی ابراج کے حوالے
16 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد