BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بِل جب آئے لوگ بِلبلا اٹھے

بجلی کا بحران
’سارا مہینے روزانہ دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوئی لیکن بل تین چار گنا زیادہ آئے ہیں‘
لاہور اور اس کے گردونواح میں بجلی کے بلوں کے خلاف دس سے زائد چھوٹے بڑےاحتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

چند مقامات پر بجلی فراہم کرنے والے سرکاری ادارے واپڈا کے دفاتر پر حملے ہوئے اور بعض مقامات پر ٹائر جلاکر ٹریفک بلاک کی گئی اور تمام مظاہروں میں حکومت اور واپڈا حکام کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

گوپال نگر گلبرگ میں واپڈا کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ سارا مہینے روزانہ دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوئی لیکن بل تین چار گنا زیادہ آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی غریبوں کی بستی ہے، پانچ چھ ہزار ماہوار تنخواہ والے کو پانچ ہزار روپے کا بل بھجوادیا گیا ہے وہ کہاں سے جمع کرائے گا۔

پاکستان بھر میں ان دنوں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اپنے عروج پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق طلب اور رسد کا فرق چھ ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے۔

لوڈ شیڈنگ کے طویل دورانیے کی وجہ سے شہریوں کا عمومی تاثر تھا کہ بجلی کے بل کم آئیں گےلیکن اس مہینے ملنے والے بلوں نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے تنگ شہریوں کے جذبات پر جلتی پر تیل کا کام کیا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں ان دنوں بجلی کے بلوں کی فراہمی جاری ہے اور جن جن علاقوں میں اس مہینے کے بل پہنچے ہیں وہاں کے متعدد شہریوں نے اوور بلنگ کی شکایت کی ہے۔

ٹیکسالی گیٹ،سکھ نہر،مغل پورہ،شیرانوالہ گیٹ ،گوپال نگر گلبرگ،تاج پورہ،شاہ کمال،ملتان روڈ،جی ٹی روڈ نزد شالیمار کالونی، اور گجر پورہ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

گوپال نگر گلبرگ کے ایک دکاندار نے کہا کہ ان کی موبائل فون میں ایزی لوڈ کی چھوٹی سے دکان ہے اور بجلی کا ماہوار بل پانچ چھ سو روپے تھا لیکن اس ماہ اٹھائیس روپے کا بل آیا ہے۔

گجر پورہ میں بڑی تعداد میں شہریوں نے بجلی کےبل نذر آتش کردئیے۔

پولیس نے احتجاجی مظاہرین کے خلاف واپڈا کے دفتر پر حملہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیاہے۔

شاہ کمال کے رہائشیوں نےفیروز پور روڈ پر ٹائر جلاکر ٹریفک بلاک کی۔ جب پولیس نے انہیں منتشر کیا تو انہوں نے واپڈا کے دفتر کا محاصرہ کرلیا۔ اس پر دفتر کا عملہ تالہ لگا کر فرار ہوگیا۔ تاہم بعد میں یونین کونسل کے ناظم محمد اکبر خان کی مداخلت پر عملہ واپس آسکا۔

سب ڈویژنل آفیسر نے احتجاجی مظاہرین کو ایک ہفتے کے اندر شکایات کے ازالے کی یقین دہانی کرائی اور چند افراد کے بلوں کی قسطیں کیں جس پر لوگ منتشر ہوگئے۔

تاج پورہ سب ڈویژن کے دفتر کا منگل کی دوپہر کو گھیراؤ کیا گیا مظاہرین نے پتھراؤ کیا،مشتعل مظاہرین نے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔

شہر بھر کے مختلف علاقوں میں منگل کی رات گئے تک چھوٹے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے۔

پاکستان میں بجلی کی فراہمی کے ادارے پیپکو کے ترجمان طاہر بشارت چیمہ کا کہنا ہے کہ بلوں میں ناجائز اضافہ کی شکایات پر ایکشن لیا جارہا ہے اور مختلف ٹیمیں بنا دی گئی ہیں جو شہریوں کی شکایات سن کر ازالہ کریں گی۔

بجلی اور مزاحمت
پشاورمیں بجلی تنصیبات پر حملے، عوام پریشان
واپڈا ہاؤسلوڈشیڈنگ بڑھے گی
بجلی کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے
کرائے پر بجلی گھر
’بجلی کابحران حل فوری ممکن نہیں‘
بجلیبجلی کا بحران
کراچی میں پانچ گھنٹے تک بجلی کی فراہمی بند
بجلیبجلی کا شدید بحران
’شہر میں دس، دیہات میں15 گھنٹے بجلی بند‘
اسی بارے میں
سرحد: لوڈ شیڈنگ پر احتجاج
03 January, 2008 | پاکستان
بجلی کے بھاری بل نے جان لے لی
06 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد