بِل جب آئے لوگ بِلبلا اٹھے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور اور اس کے گردونواح میں بجلی کے بلوں کے خلاف دس سے زائد چھوٹے بڑےاحتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ چند مقامات پر بجلی فراہم کرنے والے سرکاری ادارے واپڈا کے دفاتر پر حملے ہوئے اور بعض مقامات پر ٹائر جلاکر ٹریفک بلاک کی گئی اور تمام مظاہروں میں حکومت اور واپڈا حکام کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ گوپال نگر گلبرگ میں واپڈا کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ سارا مہینے روزانہ دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوئی لیکن بل تین چار گنا زیادہ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی غریبوں کی بستی ہے، پانچ چھ ہزار ماہوار تنخواہ والے کو پانچ ہزار روپے کا بل بھجوادیا گیا ہے وہ کہاں سے جمع کرائے گا۔ پاکستان بھر میں ان دنوں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اپنے عروج پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق طلب اور رسد کا فرق چھ ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے۔ لوڈ شیڈنگ کے طویل دورانیے کی وجہ سے شہریوں کا عمومی تاثر تھا کہ بجلی کے بل کم آئیں گےلیکن اس مہینے ملنے والے بلوں نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے تنگ شہریوں کے جذبات پر جلتی پر تیل کا کام کیا۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں ان دنوں بجلی کے بلوں کی فراہمی جاری ہے اور جن جن علاقوں میں اس مہینے کے بل پہنچے ہیں وہاں کے متعدد شہریوں نے اوور بلنگ کی شکایت کی ہے۔ ٹیکسالی گیٹ،سکھ نہر،مغل پورہ،شیرانوالہ گیٹ ،گوپال نگر گلبرگ،تاج پورہ،شاہ کمال،ملتان روڈ،جی ٹی روڈ نزد شالیمار کالونی، اور گجر پورہ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ گوپال نگر گلبرگ کے ایک دکاندار نے کہا کہ ان کی موبائل فون میں ایزی لوڈ کی چھوٹی سے دکان ہے اور بجلی کا ماہوار بل پانچ چھ سو روپے تھا لیکن اس ماہ اٹھائیس روپے کا بل آیا ہے۔ گجر پورہ میں بڑی تعداد میں شہریوں نے بجلی کےبل نذر آتش کردئیے۔ پولیس نے احتجاجی مظاہرین کے خلاف واپڈا کے دفتر پر حملہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیاہے۔ شاہ کمال کے رہائشیوں نےفیروز پور روڈ پر ٹائر جلاکر ٹریفک بلاک کی۔ جب پولیس نے انہیں منتشر کیا تو انہوں نے واپڈا کے دفتر کا محاصرہ کرلیا۔ اس پر دفتر کا عملہ تالہ لگا کر فرار ہوگیا۔ تاہم بعد میں یونین کونسل کے ناظم محمد اکبر خان کی مداخلت پر عملہ واپس آسکا۔ سب ڈویژنل آفیسر نے احتجاجی مظاہرین کو ایک ہفتے کے اندر شکایات کے ازالے کی یقین دہانی کرائی اور چند افراد کے بلوں کی قسطیں کیں جس پر لوگ منتشر ہوگئے۔ تاج پورہ سب ڈویژن کے دفتر کا منگل کی دوپہر کو گھیراؤ کیا گیا مظاہرین نے پتھراؤ کیا،مشتعل مظاہرین نے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔ شہر بھر کے مختلف علاقوں میں منگل کی رات گئے تک چھوٹے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے۔ پاکستان میں بجلی کی فراہمی کے ادارے پیپکو کے ترجمان طاہر بشارت چیمہ کا کہنا ہے کہ بلوں میں ناجائز اضافہ کی شکایات پر ایکشن لیا جارہا ہے اور مختلف ٹیمیں بنا دی گئی ہیں جو شہریوں کی شکایات سن کر ازالہ کریں گی۔ |
اسی بارے میں ’اتحاد، عدلیہ، امریکہ یا روٹی کپڑا اور مکان‘ 11 May, 2008 | پاکستان ریٹائرڈ ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ29 April, 2008 | پاکستان ’حملہ جمہوریت کے خلاف سازش‘15 April, 2008 | پاکستان ’غریب کی آمدن وہی، خرچہ دوگنا ہوگیا‘15 April, 2008 | پاکستان بجلی بحران: کراچی میں لوڈشیڈنگ07 March, 2008 | پاکستان پاکستان میں بجلی کا شدید بحران04 January, 2008 | پاکستان سرحد: لوڈ شیڈنگ پر احتجاج03 January, 2008 | پاکستان بجلی کے بھاری بل نے جان لے لی06 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||