BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 November, 2008, 13:20 GMT 18:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افسروں کو کٹہرے میں لائیں گے‘

فائل فوٹو
چودھری نثار علی خان نے کہاکہ سرکاری اداروں میں کوئی مالی قواعد و ضوابط نہیں ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ملکی دولت لوٹنے میں کوئی اعلی سرکاری یا فوجی افسر ملوث ہوا تو اُس کو بھی کٹہرے میں لایا جائے گا اور اور اُس سے کرپشن کی ایک پائی پائی وصول کی جائے گی۔

منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سرکاری اداروں میں کوئی مالی قواعد و ضوابط نہیں ہیں۔

وزارت مواصلات کے ادارے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے سنہ دو ہزار پانچ اور دو ہزار چھ کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ادارے نےمختلف منصوبوں میں نہ صرف کروڑوں روپے کے گھپلے ہوئے ہیں بلکہ اس ان منصوبوں کے ٹھیکے من پسند فرموں کو دیئے گئے۔

اڈیٹر جنرل نے اس محکمے کے اس عرصےکے دوران ہونے والی آڈٹ رپورٹ بھی کمیٹی کو پیش کی جس میں مختلف منصوبوں پر ساٹھ کروڑروپےکی مالی باعنوانیوں کی نشاندہی کی گئی۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اگر کوئی حاضر سروس فوجی اہلکار اس محکمے میں مالی بدعنوانی میں ملوث ہوا تواُس کے بارے میں آرمی چیف کو لکھا جائے گا جبکہ اگر وہ ریٹائر بھی ہوگیا ہوا تواُس کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔

 وزارت مواصلات کے ادارے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے سنہ دو ہزار پانچ اور دو ہزار چھ کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ اس ادارے کے مختلف منصوبوں میں نہ صرف کروڑوں روپے کے گھپلے ہوئے ہیں بلکہ اس ان منصوبوں کے ٹھیکے من پسند فرموں کو دیئے گئے۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ کوہاٹ ٹنل اور اس کے ساتھ بننے والی سڑکوں کا ڈیزائن تبدیل کرنے پر سینتالیس کروڑ روپے خرچ کیے گئے اس کے علاوہ این ایچ اے کے سابق ذمہ داروں نے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے مالیت کی چار گاڑیاں منگوائیں گئیں حالانکہ اُس وقت کے وزیر اعظم نے بیرون ملک سے گاڑیاں درامد کرنے پر پاندی عائد کر رکھی تھی۔

چوہدری نثار علی خان نے این ایچ اے کے چیئرمین کو حکم دیا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کروائیں کہ یہ گاڑیاں کس کے استعمال میں ہیں۔

اجلاس میں کہا گیا کہ اس بدعنوانی میں ملوث افراد کی نشاندہی کر کے اُن کے خلاف کارروائی کی جائے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اگر ان افراد کے خلاف آئندہ پندرہ روز میں کارروائی نہ کی گئی تو وہ حکومت کو این ایچ اے کے سربراہ کے خلاف کارروائی کی سفارش کریں گے۔

اجلاس میں آڈیٹر جنرل کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس ادارے نے کراچی میں شاہراہ فیصل پر ٹینڈر کیے بغیر دفتر بنا دیا جس پر نوکروڑ روپے لاگت آئی ہے اور ادارہ اس بات کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکا۔

کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ این ایچ اے پاکستان کے شمالی علاقوں ناران میں ایک ریسٹ ہاؤس بنایا جار ہا ہے جس پر ایک ارب سے زائد لاگت ۔آئے گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا محکمانہ آڈٹ کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ ہوا کرے گا اور اس کی رپورٹ پبلک اکاونٹس کمیٹی کو دی جائے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ این ایچ اے نے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں کروڑوں روپے اضافی دیئے ہیں جن پر کمیٹی کے سربراہ نے این ایچ اے کے چیئرمین اور سکریٹری مواصلات سے کہا کہ وہ ایسے ٹھیکیداروں سے رقم واپس لیں ورنہ اُن کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت سے سفارش کی جائے گی۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے یاست کے اندرریاست بنا رکھی ہے جس کی اجازت نہیں دی جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو بھی جاری رہے گا جس میں دیگر سرکاری اداروں میں ہونے والی مالی بےضابطگیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

اسی بارے میں
سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب
01 November, 2008 | پاکستان
’امریکہ سے معاہدے ختم کریں‘
18 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد