سات کمیٹیاں، پی ایم ایل ن کے سپرد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی کی سات قائمہ کمیٹیوں نے حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے ارکان کو متفقہ طور پر اپنا چیئرمین منتخب کر لیا ہے۔ قائمہ کمیٹیوں کے یہ انتخابات جمعرات کی صبح پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوئے۔ حکومت کی سابق حلیف جماعت کے جن ارکان کو قومی اسمبلی کی قائمہ کیمٹیوں کے سربراہ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ ان میں سے عابد شیر علی کو تعلیم، خرم دستگیر کو کامرس، راجہ محمد اسد خان کو ماحول، ایاز صادق کو ریلوے، اکرم انصاری کو ٹیکسٹائل، عثمان ابراہیم کو خواتین کی ترقی اور مرتضٰی جاوید عباسی کو نارکوٹکس کنٹرول کی قائمہ کمیٹی کا سربراہ چنا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ان انتخابات میں مسلم لیگی امیدواروں کی مخالفت نہیں کی گئی۔ ماہرین بڑی تعداد میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان کو پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے سربراہاں منتخب کیے جانے اور حکومت کی جانب سے انکی مخالفت نہ کرنے کو پارلیمانی نظام کے لیے نیک شگون قرار دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی کی سب سے اہم سمجھی جانے والی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ چوہدری نثار علی خان کو چنا گیا تھا جنکا تعلق بھی نواز لیگ سے ہے اور جو قائد حزب اختلاف کے منصب پر فائز ہیں۔ | اسی بارے میں پبلِک اکاؤنٹس کمیٹی کےنئے سربراہ19 September, 2008 | پاکستان اسفندیارخارجہ کمیٹی کے چیئرمین17 September, 2008 | پاکستان ’امریکہ سے معاہدے ختم کریں‘18 September, 2008 | پاکستان کشمیر کمیٹی کے چیئرمین منتخب16 September, 2008 | پاکستان چودھری نثار ، نئے اپوزیشن لیڈر17 September, 2008 | پاکستان پرویز اور فضل کے وارنٹ گرفتاری 16 July, 2008 | پاکستان اجلاس: ججوں کا معاملہ سر فہرست18 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||