پرویز اور فضل کے وارنٹ گرفتاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کی ایک مقامی عدالت نے سابق وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور سابق قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان سمیت گزشتہ حکومت کے چنداعلٰی حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے ہیں۔ پرویز الہی اور صوبائی حکومت کے حکام پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ڈاکٹر کے خلاف زلزلہ متاثرہ لڑکی سے مبینہ زیادتی کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا تھا۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان پر اس معاملے میں بیان بازی کرنے اور مدعی کی ساتھ کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ دسمبر سنہ دوہزار پانچ میں ڈاکٹر مقصود میو ہسپتال میں تعینات تھے جب ان پر زلزلہ سے متاثرہ ایک کشمیری مریضہ سے زیادتی کاالزام لگا۔ وزیراعلٰی کی معائنہ ٹیم، پولیس اور محکمہ صحت کی الگ الگ ٹیموں نے انکوائری کی اور ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ چلا انہوں نے سپریم کورٹ تک مقدمہ لڑا اور بری ہونے کے بعد انہوں نے لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں قذف کا مقدمہ دائر کردیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے انہیں ہتک عزت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس مقدمہ میں سابق وزیر اعلٰی چودھری پرویز الٰہی، مولانا فضل الرحمان سابق وزیر صحت ڈاکٹر طاہر علی جاوید، وزیر اعلٰی کی مشیر صبا صادق، سابق چیف سیکرٹری سلمان صدیق اور ایس ایس پی عامر ذوالفقار علی سمیت گیارہ افراد کو فریق بنایا گیا۔ بدھ کو ان میں سے سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر طاہر علی جاوید، میو ہسپتال کے اس وقت کے ایم ایس فیاض علی رانجھا، سابق ایم پی اے روبینہ، پروفیسر مجید حسین اور مولانا محمد اکرم عدالت پیش ہوگئے۔ جبکہ باقی ملزمان پیش نہیں ہوئے جن کے پولیس نے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ پچیس جولائی تک انہیں عدالت میں پیش کریں۔ | اسی بارے میں ’زیادتی نہیں ہوئی‘، مقدمہ خارج16 December, 2005 | پاکستان ’مرضی کے خلاف بیان لیا گیا‘13 December, 2005 | پاکستان زیادتی نہیں ہوئی،ورثا مُکر گئے10 December, 2005 | پاکستان زلزلہ کی بے بس، خاموش متاثرین10 December, 2005 | پاکستان لڑکی کی مبینہ بےحرمتی پرمظاہرہ09 December, 2005 | پاکستان ریپ کیس، ملزم ڈاکٹر گرفتار07 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||