اسفندیارخارجہ کمیٹی کے چیئرمین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی اسفندیار ولی کو قومی اسمبلی کی خارجہ امور کی کمیٹی کا بلا مقابلہ چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس ضمن میں بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک اجلاس ہوا جس میں قومی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی بڑی سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد نے اسفندیار ولی کا نام خارجہ امور کی کمیٹی کا بطور چیئرمین تجویز کیا جس کی تائید پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ نے کی۔ عوامی نیشنل پارٹی حکمراں اتحاد میں شامل ہے اور وہ صوبہ سرحد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہی ہے۔ اجلاس کے دوران ارکان قومی اسمبلی نے اسفندیار ولی کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسفندیار ولی نے کہا کہ ملک اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور تمام سیاست دانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پارٹی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر ملک کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر حالات انتہائی کشیدہ ہیں جہاں پر غیر ملکی افواج حملے کر رہی ہے جس کی وجہ سے اس کمیٹی پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسفندیار ولی کا کہنا تھا کہ عید کے بعد اس کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے گا جس میں تمام امور کو زیر بحث لایا جائے گا۔ اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ایاز امیر نے موجودہ خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ خارجہ پالیسی دیوالیہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت قیادت کا فقدان ہے۔ واضح رہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی حمایتی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے دور حکومت میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر اور پارلیمانی لیڈر فاروق ستار اس کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں۔ سینیٹ میں خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ پاکستان مسلم لیگ قاف کے پاس ہے اور جماعت کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید اس کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ اس سے پہلے پانی اور بجلی کے بارے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب ہوا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ کو چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ | اسی بارے میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین منتخب16 September, 2008 | پاکستان صدارت:اے این پی زرداری کی حامی24 August, 2008 | پاکستان ’آنکھیں بند کر کے تائید نہیں کریں گے‘01 May, 2008 | پاکستان طالبان سے مفاہمت کہاں تک جائے گی؟03 April, 2008 | پاکستان پہلی قرارداد سی آئی اے کے خلاف01 April, 2008 | پاکستان منصفوں پر اعتراض، سماعت ملتوی13 March, 2007 | پاکستان کرزئی کا فضل الرحمان کو خط29 October, 2006 | پاکستان نعروں کی سیاست کب تک؟11 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||