پاکستان یا کابینستان کے معنی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جدید ریاست کی تشکیل سے قبل مطلق العنان بادشاہ کہ جس کا ہر حکم خدائی گردانا جاتا تھا اپنی خدائی ایک سپاہ سالار اور ایک وزیر اور اس وزیر کے ماتحت پوری بیوروکریسی کے ذریعے چلانے کی قدرت رکھتا تھا۔ لیکن جدید ریاست میں حکمران چونکہ مملکت کے ہر شعبے پر کماحقہ توجہ نہیں دے سکتا تھا لہذا ریاست کا باقاعدہ رسمی ڈھانچہ بنانا پڑا جس میں حکومت اور مملکت کو علیحدہ علیحدہ تصور کرتے ہوئے روزمرہ کا نظام چلانے کے لئے باقاعدہ محکموں اور ان محکموں پر کل وقتی توجہ دینے کے لئے وزرا اور انکے نائبین کی شکل میں کابینہ کی تشکیل کا رواج پڑا۔ کابینہ کتنی بڑی یا مختصر ہونی چاہئیے۔اس کا دارومدار ذمہ داریوں اور مسائل کی نوعیت، حکومت سازی کی ہئیت، روایات اور وقتی ضروریات پر ہوتا ہے۔ کابینہ کا بہت بڑا ہونا اس بات کی قطعاً ضمانت نہیں ہے کہ کاروبارِ مملکت زیادہ مستعدی سے چلے گا۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ کابینہ کے ارکان کی تعداد اتنی ہونی چاہئیے کہ وہ نہ صرف مملکت کے مختلف علاقوں اور طبقات کی مناسب نمائندگی کرسکیں بلکہ حکومتِ وقت کی پالیسیوں کو سیاسی و نظریاتی رہنمائی فراہم کرتے ہوئے بیوروکریسی سے ان پالیسیوں پر عمل درآمد کروا سکیں۔ اس تناظر میں اگر دنیا کے بڑے اور اہم ممالک کے حکومتی ڈھانچے پر نگاہ ڈالی جائے تو ہمیں احساس ہوگا کہ کابینہ جتنی کم پُرہجوم ہوگی کارکردگی اتنی ہی بہتر ہوگی۔ مثلاً دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کو دیکھئے جہاں صدر بش کی کابینہ میں صرف پندرہ محکمہ جاتی وزیر ہیں جبکہ نائب صدر ڈک چینی، فیڈرل ریزرو بورڈ کے چیرمین، سوشل سیکورٹی ایڈمنسٹریٹر، قومی سلامتی کے مشیر اور نیشنل انٹیلی جینس چیف سمیت نو عہدیدار بربنائے عہدہ کابینہ کے اضافی ارکان تصور کئے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جارج بش کی کابینہ کے چوبیس ارکان انتظامی پالیسیوں کی نگرانی کے لئے کافی خیال کئے جاتے ہیں۔ امریکہ کا ہمسائیہ کینیڈا جو روس کے بعد رقبے کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک اور سات کلیدی صنعتی مملک کے کلب جی سیون کا بھی رکن ہے۔ اسکا روزمرہ نظام وزیرِ اعظم سٹیفن ہارپر کی اڑتیس رکنی کابینہ بڑے مزے سے چلا رہی ہے۔ جنوبی امریکہ کا سب سے بڑا ملک برازیل جو دنیا کی دسویں بڑی صنعتی طاقت ہے اور جس کا رقبہ بھارت کے برابر ہے۔ وہاں صدر لولا ڈی سلوا کی کابینہ میں صرف تئیس وزیر ہیں۔ جبکہ نو دیگر اہلکاروں کو کابینہ درجے کے وزیر کے برابر اختیارات حاصل ہیں۔ ڈیڑھ ارب کی آبادی والا چین جو دنیا کی دوسری بڑی صنعتی طاقت بھی ہے اسکے وزیرِ اعظم وین جیاؤ باؤ کو نظامِ حکومت چلانے کے لئے محض تین نائب وزرائے اعظم اور پچیس وزیروں کی معاونت حاصل ہے اور وزیرِ اعظم جیاؤ باؤ جس حکمران کیمونسٹ پارٹی کی پالیسیوں پر عمل درآمد کے ذمہ دار ہیں اس کیمونسٹ پارٹی کا اعلی ترین پالیسی ساز ادارہ پولٹ بیورو بھی صرف پچیس ارکان پر مشتمل ہے دنیا کی تیسری بڑی صنعتی قوت جاپان کے وزیرِ اعظم تارو آسو کو اپنی اٹھارہ رکنی کابینہ کے حجم سے کوئی شکایت نہیں۔ دنیا کی چوتھی بڑی صنعتی قوت جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل کو پندرہ وفاقی وزیر کافی لگتے ہیں۔ دنیا کی پانچویں صنعتی طاقت برطانیہ کے وزیرِ اعظم گورڈن براؤن اپنے بائیس محکمہ جاتی وزرا اور دس کابینہ درجے کے اہلکاروں کے ساتھ خوش ہیں۔ جبکہ چھٹی بڑی طاقت فرانس کی کابینہ اکیس وزرا پر مشتمل ہے۔ تیل پیدا کرنے والے سب سے اہم ملک سعودی عرب کے وزیرِ اعظم شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز کو اکیس سے زائد کابینہ وزیروں کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ جبکہ تیل پیدا کرنے والے دوسرے بڑے ملک ایران کے صدر احمدی نژاد دس نائب صدر اور اکیس وزرا سمیت اکتیس معاونین کی مدد سے بخوبی ایران کا کاروبار چلا رہے ہیں۔ اب آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ امیر یا ترقی یافتہ ممالک کا موازنہ پاکستان جیسے غریب ممالک سے کرنا زیادتی ہے۔ تو چلئیے سارک ممالک کو دیکھ لیتے ہیں۔ تباہ حال افغانستان میں کرزئی حکومت پچیس رکنی کابینہ پر تکیہ کیے ہوئے ہے۔ بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر فخر الدین احمد گذشتہ دو برس سے اٹھارہ کروڑ آبادی کا انتہائی غریب ملک پندرہ رکنی کابینہ کے مدد سے رواں دواں رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ نیپال جیسے غریب ملک کی حکومت تیرہ وزیروں سے زیادہ کا بوجھ نہیں اٹھا پارہی۔ خانہ جنگی کے شکار مگر جنوبی ایشیا کے سب سے خواندہ ملک سری لنکا کے وزیرِ اعظم کی کابینہ میں محض اڑتالیس وزیر اور وزرائے مملکت ہے۔ البتہ خطے کے سب سے بڑے ملک بھارت کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موھن سنگھ کی کابینہ اناسی وزرا اور جونیئر وزرا پر مشتمل ہے۔ لیکن بھارتی سرکار اتنی بڑی کابینہ کے لئے یہ دلیل دیتی ہے کہ سوا ارب کی آبادی کا ملک جسے حکمراں یونائیڈ پروگریسو الائنز میں شامل تیرہ جماعتوں کی مدد سے چلایا جا رہا ہے وھاں اناسی رکنی کابینہ کوئی بہت بڑی کابینہ نہیں ہے۔ اس تناظر میں پاکستان جو بھارتی صوبہ اترپردیش کے برابر اور ترقی کی عالمی انڈیکس میں ایک سو اکیسویں نمبر پر ہے اور جس کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے ہر ممکنہ مالیاتی دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے ۔ایسے ملک میں سابق وزیرِ اعظم شوکت عزیز کی انہتر رکنی کابینہ کے ناقدین کے ہاتھوں موجودہ اکسٹھ رکنی وفاقی کابینہ کی تشکیل کا کوئی بہت ہی غیر معمولی جواز ہونا چاہیے۔ لیکن یہ کوئی غیر معمولی بات اس لئے نہیں ہے کیونکہ اسی غریب پاکستان کے غریب ترین صوبے بلوچستان کی پینسٹھ رکنی صوبائی اسمبلی کے ایک رکن وزیرِ اعلی ہیں دوسرے رکن سپیکر اور تیسرے رکن ڈپٹی سپیکر ہیں۔ پینتالیس ارکانِ اسمبلی وزیر ہیں۔ان میں سے چھ کے محکموں کا اب تک فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کہ انہیں کہاں کھپایا جائے۔ ایک رکنِ اسمبلی مشیر ہے۔ باقی پارلیمانی سیکرٹری بنا دیے گئے ہیں۔ قصہ مختصر پینسٹھ ارکانِ اسمبلی میں حزبِ اختلاف صرف ایک رکن پر مشتمل ہے۔ یقین نہیں آتا کہ یہ وہی پاکستان ہے جس کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کی کابینہ محض سترہ وزرا پر مشتمل تھی اور اس کابینہ نے ایک ایسے ملک کو چلا لیا جس کے بارے میں روز پیش گوئی ہوتی تھی کہ اب ڈوبا کہ تب ڈوبا۔۔۔۔۔ |
اسی بارے میں کل کے مجرم، آج کے وزیر31 March, 2008 | پاکستان ممکنہ وزراء کے ناموں کا اعلان30 March, 2008 | پاکستان کابینہ کا اعلان، اعتماد کے بعد28 March, 2008 | پاکستان اعتماد کاووٹ ہفتےکو لیں گے26 March, 2008 | پاکستان مرکز: وزارتوں کی تقسیم پر اتفاق18 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||