BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 January, 2009, 15:17 GMT 20:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مکان تمہارا سامان ہمارا

طلحہ محمود
سامان ابھی تک اسی مکان میں موجود ہے کیونکہ اتنی جلدی وہ سامان دوسری جگہ منتقل نہیں کر سکتا تھا: طلحہ محمود
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور کے سربراہ سینیٹر طلحہ محمود کی اسلام آباد میں کرائے کی رہائش گاہ اور مکان مالکن کے مابین مکان کا تنازعہ اب میڈیا کی زینت بن گیا ہے۔

بدھ کو جمیعت علماء اسلام (فضل الرحمان گروپ) کے سینیٹر طلحہ محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تردید کی کہ وہ اسلام آباد کے ایک مہنگے ترین علاقے ایف سیون فور کے مکان نمبر تیرہ اے پر قابض ہیں۔

طلحہ محمود کے مطابق انھوں نے دو ہزار دو میں مکان کرائے پر لیا تھا تاہم ایک عدالتی فیصلے کے بعد وہ گزشتہ سال دسمبر سے اسے خالی کر چکے ہیں جبکہ مکان مالکن ُان کی کردار کشی کے لیے اخبار میں خبر شائع کروا رہی ہیں جس پر وہ مالکن کے خلاف ہتک عزت کا پچاس کروڑ روپے کا ہرجانہ بھی دائر کریں گے۔

ایف سیون فور میں واقع مکان نمبر تیرہ اے کی مالکن مسز بلقیس کے بیٹے ڈاکٹر عادل نے بتایا کہ جنوری دو ہزار دو میں ان کی والدہ نے سینیٹر طلحہ محمود کو چار سال کے لیے مکان کرائے پر دیا تھا تاہم کرایہ نامے کے مطابق طلحہ محمود ایک ماہ کے اندر مکان خالی کرنے کے پابند تھے۔

یاد رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور جس کے سربراہ طلحہ محمود ہیں ملک میں جعلی ادویات، غیر قانونی موبائل سمز اور دیگر داخلی امور کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔ اور کمیٹی کے سربراہ نے متعدد بار میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ غیر قانونی کام کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ڈاکٹر عادل نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ دو ہزار تین میں ضرورت پڑنے پر ان کی والدہ نے مکان خالی کروانے کے لیے سینیٹر طلحہ کو نوٹس جاری کیا لیکن طلحہ محمود نے نوٹس کے خلاف سول کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا۔

ان کے بقول سول کورٹ میں رینٹ کنٹرولر کے سول جج کے سامنے انھوں (طلحہ محمود) نے ایک جعلی کرایہ نامہ پیش کیا جس کے مطابق گھر کرائے پر چار سال کی بجائے بیس سال کے لیے دیا گیا تھا۔ تاہم پھر بھی فیصلہ سینیٹر طلحہ محمود کے خلاف آیا۔

ڈاکٹر عادل کے مطابق سینیٹر طلحہ محمود نے دوبارہ سیشن کورٹ میں کیس داخل کر دیا جہاں ان کے حق میں فیصلہ آیا جبکہ بعد میں ان کی والدہ مسز بلقیس نے ہائی کورٹ میں کیس کر دیا اور اس پر ہائی کورٹ نے سول جج رینٹ کنٹرولر کا فیصلہ بحال کر دیا۔

مسز بلقیس کے بیٹے کے مطابق تئیس جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سول جج نے متعلقہ تھانے کی پولیس کو حکم دیا کہ وہ بیلف کے ساتھ جا کر سینیٹر طلحہ محمود سے مکان خالی کروائیں۔ ان کے بقول مکان میں موجود سینیٹر طلحہ محمود نے نہ صرف عدالتی فیصلے کے برعکس مکان خالی کرنے سے انکار کر دیا بلکہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔

مکان نمبر تیرہ اے کے باہر موجود چوکیدار ولید نے تصدیق کی کہ مکان طلحہ محمود کا ہی ہے
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور کے سربراہ کے مطابق عدالت کا فیصلہ آتے ہی انھوں نے گزشتہ سال دسمبر میں مکان خالی کر دیا تھا اور اس وقت وہ پارلیمنٹ لاجز میں رہائش پذیر ہیں۔

ایک سوال کہ ایف سیون فور کے مکان میں موجود ملازمین کا کہنا ہے کہ مکان سینیٹر طلحہ محمود کا ہی ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ مکان مالکن نے مکان کسی وحید نامی شخص کو کرائے پر دے دیا ہے تاہم ان کا سامان ابھی تک اسی مکان میں موجود ہے کیونکہ اتنی جلدی وہ سامان دوسری جگہ منتقل نہیں کر سکتے تھے۔

واضع رہے کہ بی بی سی کے سروے کرنے پر مکان نمبر تیرہ اے کے باہر موجود چوکیدار ولید نے تصدیق کی کہ مکان طلحہ محمود کا ہی ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے ملازم گل واحد نے بتایا کہ مکان میں چار ملازمین کے علاوہ ایک ڈرائیور اور اس کے اہلخانہ رہائش پذیر ہیں جبکہ صاحب (طلحہ محمود) کافی دنوں سے نہیں آئے کیونکہ وہ سرکاری مکان میں رہتے ہیں۔

دوسری جانب ڈاکٹر عادل کے مطابق ان کے پاس تمام عدالتی فیصلوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ ان کے بقول سینیٹر طلحہ محمود نے اپنے جاننے والے مبینہ وحید نامی شخص کے نام سے ان کی والدہ کے بینک اکاؤنٹ میں رواں ماہ دو لاکھ سے زائد رقم جمع کروائی تھی جس پر انھوں نے بینک کو درخواست دی کہ وہ وحید نامی کسی شخص کو نہیں جانتے اور رقم ان کے علم میں لائے بغیر جمع کروائی گی ہے لہذا رقم متعلقہ شخص کو واپس کر دی جائے۔

اسی بارے میں
حزب اختلاف شمولیت، اچھا شگون
20 September, 2008 | پاکستان
سینیٹ انتخابات کی بھاگ دوڑ
11 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد