BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 October, 2008, 14:53 GMT 19:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غیرت کے نام پر قتل کو اہمیت دو‘

غیرت مظاہرہ
تحقیقاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ تسلیم سولنگی کیس کی تحقیقات کو جلد از جلد مکمل کیا جائے
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے سفارش کی ہے کہ اگر غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے متعلق کوئی مدعی ایف آئی آر کا اندراج نہیں کرواتا تو پولیس کو جس ذرائع سے بھی پتہ چلے تو وہ فوری اس کا مقدمہ درج کرے۔

جمعہ کے روز کمیٹی کا اجلاس سینیٹر ایس ایم ظفر کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں کہا گیا کہ پولیس ایسے واقعات کو اہمیت دیتے ہوئے ان مقدمات کی تفشیش کو بہتر انداز میں کرے اور ڈی آئی جی رینک کا افسر اس تفتیش کی نگرانی کرے۔

اجلاس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ ضابطہ فوجداری ایکٹ مجریہ 2004 کے سب سیکشن 2 اے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی مشاورت کے ساتھ ترمیم کی جائے۔ اس سیکشن کے مطابق غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خاتون کا بھائی یا کوئی دوسرا رشتہ دار اس مقدمے کی سماعت کے دوران ملزمان کو معاف کر سکتا ہے۔

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی نے خیر پور میں تسلیم سولنگی کے بہیمانہ قتل کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور تفتیش کے سلسلہ میں اٹھائے جانے والے ہر اقدام سے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔

وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ حکومت غیرت کے نام پر قتل اور اس سےمتعلقہ دیگر معاملات میں ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔

اجلاس کے دوران بلوچستان پولیس کے سربراہ آصف نواز نے نصیر آباد میں غیرت کے نام پر مبینہ طور پر زندہ درگور کی جانے والی عورتوں کے مقدمے میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ دو عورتوں کو قتل کیا گیا ہے جبکہ میڈیا میں پانچ عورتوں کا ذکر آرہا ہے جو درست نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی تفیش میں فرائض سے غفلت برتنے کے الزام میں دو انسپکٹروں کو معطل کردیا گیا ہے جبکہ علاقے کے پولیس افسر کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں بیس افراد مطلوب ہیں جن میں نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں پانچ ارکان جرگے کے ہیں جبکہ باقی ملزمان ابھی تک مفرور ہیں۔

کمیٹی کے سربراہ نے آئی جی بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ اس مقدمے کی تحقیقات کو مکمل کر کے اس کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کریں۔ کمیٹی میں موجود متعدد ارکان نے اس مقدمے میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو اس مقدمے کی تفتیش میں مزید مؤثر اقدامات کرنے چاہیے۔

اجلاس میں قانون اور انسانی حقوق کے بارے میں وفاقی وزیر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اداروں پر اعتماد کا فقدان ہے اور پولیس اہلکاروں کو اس کی تفتیش مکمل کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں
نصیر آباد میں قبر سی خاموشی
04 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد