BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 September, 2008, 09:48 GMT 14:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حزب اختلاف شمولیت، اچھا شگون

چودھری نثار کو قائد حزب اختلاف بھی نامزد کیا گیا ہے
پارلیمانی نظام میں منتخب ایوانوں کی قائمہ کمیٹیاں پارلیمان کے ہاتھ، کان اور اکثر دماغ قرار دی جاتی ہیں۔ لہذا پاکستان جیسے ملک میں جہاں حقیقی جمہوریت اب تک ایک خواب ہی دکھائی دیتی رہی ہے اس دماغ پر کنٹرول ہر حکمران کی خواہش رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قومی اسمبلی کی چھیالیس کمیٹیوں اور خصوصی کشمیر کمیٹی پر ماضی میں اکثر و بیشتر حکمراں جماعت نے اپنے اراکین کو ہی منتخب کروانے کی ’غیرجمہوری‘ روایت قائم رکھی ہے۔ لیکن اس مرتبہ حالات قدرے بدلے بدلے دکھائی دے رہے ہیں۔

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سربراہی حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کو ملنے سے پارلیمانی اور سیاسی ماہرین کو امید بندھ چلی ہے کہ اس ملک میں ’نومولود‘ جمہوریت کے مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

سینٹر فار سوک ایڈوکیشن پاکستان نامی تنظیم کے سربراہ ظفر اللہ خان کا کہنا ہے کہ اگر قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی میں بروقت بجٹ حسابات پیش کیئے جائیں اور ان کا بروقت جائزہ لیا جائے تو شاید اس ملک کو احتساب بیورو جیسے متنازعہ اداروں کی کبھی ضرورت ہی نہ پڑے۔

’اس اعتبار سے قائد حزب اختلاف کی اس کمیٹی کے سربراہ کے طور پر تقرری جمہوریت کی راہ پر ایک اہم اور غیرمعمولی پیش رفت قرار دی جاسکتی ہے۔’

پبلک اکاونٹس کمیٹی کا کام یہ ہے کہ وہ ایوان کی جانب سے سالانہ بجٹ میں وسائل کی مختلف وزارتوں اور ترجیحات کے لیئے جو تقسیم کی جاتی ہے وہ اس پر نظر رکھتی ہے۔ یہ کام وہ آڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹس کی روشنی میں کرتی ہے۔ اس حوالے سے وہ متعلقہ وزرات کے کسی اہلکار کو طلب بھی کرسکتی ہے۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی
پبلک اکاونٹس کمیٹی کا کام یہ ہے کہ وہ ایوان کی جانب سے سالانہ بجٹ میں وسائل کی مختلف وزارتوں اور ترجیحات کے لیئے جو تقسیم کی جاتی ہے وہ اس پر نظر رکھتی ہے۔ یہ کام وہ آڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹس کی روشنی میں کرتی ہے۔ اس حوالے سے وہ متعلقہ وزرات کے کسی اہلکار کو طلب بھی کرسکتی ہے۔

چوہدری نثار علی خان جوکہ اس کمیٹی کے چیرمین منتخب ہوئے ہیں پارلیمان کی اس اہم ترین سمجھی جانے والی کمیٹی میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کا اعلان ہے کہ وہ گزشتہ پندرہ برسوں کے حساب کتاب کی چھان بین کریں گے ان کی صلاحیت سے شاید بڑھ کر ہو لیکن ان کی یہ یقین دہانی کہ ان کا احتساب بلاامتیاز ہوگا قابل تحسین ہے۔

حکمراں اتحاد کی جانب سے چودھری نثار کی اس کمیٹی کے لیئے نامزدگی کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے حزب اختلاف میں جانے سے پہلے کا تھا۔ اس وجہ سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ شاید بدلتی صورتحال میں پیپلز پارٹی اس نامزدگی کی مخالفت کرے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔

اگرچہ پبلک اکاونٹس کمیٹی اپنی اہمیت کے اعتبار سے انتہائی اہم اور بااختیار ہے لیکن دیگر کمیٹیوں کی طرح یہ بھی ماضی میں موثر انداز میں اپنا کردار آج تک ادا نہیں کرسکی۔ بعض سیاسی مبصرین کے مطابق شاید اس نامزدگی میں تبدیلی سے پیپلز پارٹی کے انکار کی وجہ بھی یہی تھی۔

ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ اس کمیٹی کے سامنے آڈیٹر جنرل کی جانب سے مختلف وزارتوں اور محکموں کی کم از کم آٹھ یا نو برس پرانی سالانہ حسابات پیش کئے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ رہا کہ ان رپورٹس میں جن بدعنوانیوں کی نشاندہی کی جاتی اس کے مرتکب افراد یا تو ملک چھوڑ کر جاچکے ہوتے یا دنیا ہی۔ اس وجہ سے کسی کے خلاف کارروائی کم ہی ہوتی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن)
 پاکستان مسلم لیگ اسے ایک شگون قرار دیتی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی نیک نیتی سے کام لے رہی ہے
مسلم لیگ کے رہنما ظفر اقبال جھگڑا
پاکستان مسلم لیگ (ن)
ظفر اللہ خان کہتے ہیں کہ آڈیٹر جنرل کو رپورٹس کا یہ وقت کم کر کے دو برس تک لانا ہوگا ورنہ اس کمیٹی کی افادیت میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ بعض مبصرین کے مطابق کمیٹیوں کی تشکیل میں کافی تاخیر کی جا رہی ہے اور چھ ماہ کا وقت پہلے ہی ضائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی تجویز ہے کہ کمیٹی کی کارروائی میڈیا کے سامنے ہونی چاہیے جو اگرچہ ایک میڈیا ’سرکس‘ کا تاثر دے گی لیکن اس سے بہتری کا امکان زیادہ ہے۔

مسلم لیگ (ن) اس کمیٹی کے ملنے کو ایک نیک شگون قرار دیتی ہے۔ جماعت کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا بھی معترف ہیں کہ اس سے پیپلز پارٹی کی نیک نیتی کا ثبوت ملتا ہے۔ تاہم وہ بھی اس بات سے متفق ہیں کہ اس کمیٹی کو زیادہ فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ ’صرف تعیناتی کافی نہیں اس کمیٹی کو چلانے میں بھی حکومت کا ایک اہم کردار ہے۔ اسے اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے دینا بڑا چیلنج ہوگا۔‘

پیپلز پارٹی نے قائد حزب اختلاف کو اس اہم کمیٹی کی قیادت دے کر بقول اس کے میثاق جمہوریت کی ایک اور شرط پوری کر دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چوہدری نثار علی خان اس اہم فورم کو نمائشی اور ٹی اے/ ڈی اے فورم کے بجائے حقیقی احتساب کے لیئے استعمال کر پاتے ہیں یا نہیں۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی سمیت اب تک قومی اسمبلی کی چھالیس قائمہ کمیٹیوں میں سے پانچ کے چیرمین کا انتخاب ہوچکا ہے۔ کشمیر سے متعلق خصوصی کمیٹی ان کے علاوہ ہے جس کی سربراہی مولانا فضل الرحمان کو ملی ہے۔

انیس سو ترانوے چھانوے کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس وقت کے بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصر اللہ خان کو اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ مسلم لیگ (ق) نے یہ عہدہ دو ہزار دو کے عام انتخابات کے بعد حامد ناصر چٹھہ کے حوالے کی تھی۔

خارجہ امور کے اہم کمیٹی بھی حکمراں اتحاد نے اپنے ایک دوسرے ساتھی عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی کے سپرد کی ہے۔ اس تعیناتی کی بھی پاکستان کو درپیش مغربی اور مشرقی سرحدوں پر چیلنجوں کی وجہ سے کافی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ اسفندیار ولی کو ناصرف افغانستان میں کرزئی بلکہ بھارت میں کانگرس حکومت کی حمایت حاصل ہیں۔ ان کی تقرری سے حکومت کو امید ہوگی کہ کم از کم ان دو ہمسایہ ممالک تعلقات بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔

ویسے تو ماہرین کے مطابق ہر کمیٹی اہم ہے لیکن دفاع، خزانہ اور نج کاری جیسی اہم کمیٹیوں کے سربراہان کی تقرری ابھی باقی ہے۔ ان کمیٹیوں کی جلد تشکیل کے علاوہ ان کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ یہ اپنے اصل مقاصد حاصل کرسکیں۔ پارلیمان نے کام تو شروع کر دیا ہے لیکن ابھی اس کے دماغ نے نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد