BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومت کارروائی روکنے پر رضامند‘

فوجی آپریشن
حکومت کی جانب سے ایسے کسی فیصلے کی معلومات نہیں ملی ہیں: میجر مراد
پاکستان کے قبائلی علاقوں سے اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ حکومت قبائلی علاقوں میں تقریباً ڈیڑھ ماہ تک فوجی کارروائیاں بند کرنے پر رضامند ہوگئی ہے جس کا باضابطہ اعلان سنیچر کو وزیر اعظم کریں گے۔

تاہم پاکستانی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں ابھی حکومت کی جانب سے ایسے کسی فیصلے کی معلومات نہیں ملی ہیں۔ میجر محمد مراد کا کہنا تھا کہ اگر حکومت انہیں کارروائی روکنے کا حکم دے گی تو وہ ایسا کرنے کے پابند ہیں۔

قبائلی علاقوں سے دس اراکین اسمبلی کے رہنما منیر خان اورکزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کی رات ان کی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری سے تفصیلی بات چیت ہوئی جس میں قبائلی علاقوں میں آپریشن بند کرنے پر اتفاق ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آصف زرداری کو بتایا کہ اگر فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند نہ کی گئیں اور مذاکرات کی راہ نہ اپنائی گئی تو صدارتی انتخاب میں ان کی حمایت کیا وہ تو حکمران اتحاد میں بھی نہیں رہ پائیں گے۔

منیر اورکزئی کا کہنا تھا: ’وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی آج رات کراچی سے واپسی اور فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی امریکہ سے واپسی پر ان کی رائے بھی لی جائے گی لیکن انہوں (زرداری) نے ہمیں تقریبًا تقریباً اٹھانوے فیصد یقین دہانی کرا دی ہے کہ سنیچر تک اس پر فیصلہ کرکے اعلان کر دیں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ یہ جنگ بندی چالیس یا پینتالیس روز کی ہوگی جس دوران مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

حمایت نہیں
 آصف زرداری کو بتایا کہ اگر فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند نہ کی گئیں اور مذاکرات کی راہ نہ اپنائی گئی تو صدارتی انتخاب میں ان کی حمایت کیا وہ تو حکمران اتحاد میں بھی نہیں رہ پائیں گے۔
منیر خان اورکزئی

ان کا کہنا تھا کہ اس اعلان کے نہ ہونے کی صورت میں وہ صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی سے حمایت واپس لے لیں گے بلکہ حکمران اتحاد سے بھی علحیدگی اختیار کر لیں گے۔

اس سے قبل قبائلی علاقوں کے منتخب اراکین نے بدھ کو ایوان میں ان مطالبات کے منظور کرنے کے لیے حکومت کو چوبیس گھنٹوں کی مہلت دی تھی جس کے بعد یہ اجلاس منعقد کیا گیا۔

تاہم فوج کے ترجمان میجر محمد مراد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فی الحال کسی ایسے فیصلے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کا اختیار ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔ ’ہمیں اگر حکومت کارروائیاں بند کرنے کے لیے کہے گی تو ہم بند کر دیں گے اور اگر جاری رکھنے کا حکم ہوگا تو ایسا ہی ہوگا۔‘

ایک سوال کے جواب میں منیر اورکزئی نے بتایا کہ جنگ بندی کی وجہ رمضان کی آمد کے ساتھ ساتھ وہاں سیاسی مذاکرات کا عمل کو ایک مرتبہ پھر موقع دینا بھی ہے۔

منیر اورکزئی کا مشیر داخلہ رحمان ملک کی جانب سے اس اعلان پر کہ جنگ بندی صرف شدت پسندوں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی صورت میں ہوگا کے بارے میں کہنا تھا کہ ان کے خیال میں جب وزیر اعظم، فوجی سربراہ اور آصف علی زرداری جو کہیں گے چلے گا وہی۔ ’جب بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل ہوسکتا ہے تو پھر جنگ کی کیا ضرورت ہے۔ ہم نے عمائدین کے لیئے ایک موقع مانگا ہے تاکہ وہ مذاکرات کرسکیں۔‘

اسی بارے میں
جوابی کارروائی کا دعویٰ
12 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد