اتحادی فوج: نقل و حمل میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان سے متصل پاک افغان سرحد پر اتحادی فوجوں کی نقل حمل میں اضافہ ہوا ہے۔جدید اسلحہ سے لیس سینکڑوں فوجی سرحد کے قریب گشت کرہے ہیں اور انہیں ہیلی کاپٹروں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ افغان سرحد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شمالی اورجنوبی وزیرستان سے متصل افغان سرحد پر امریکہ اور اس کے سینکڑوں اتحادی فوجی ہیلی کاپٹر، ٹینکوں، توپوں اور جدید اسلحہ سے لیس سرحد کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ انگوراڈہ سے سیلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اتحادی فوجی گزشتہ رات سے پاک افغان سرحد کے علاقوں پلن برمل اور سرحد کے قریب پہاڑی علاقوں میں پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں پر اتحادی جنگی طیاروں کی پروازیں بھی جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ انگوراڈہ سے سینکڑوں گھرانے نقل مکانی کرکے دوسرے علاقوں میں چلے گئے ہیں۔ ادھر میرانشاہ سے ایک مقامی صحافی ممتاز نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی اور اتحادی فوجی شمالی وزیرستان سے متصل افغان سرحد کے قریب علاقوں غلام خان، لوارہ اور امیر چپر کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتمان زئی وزیر قبائل سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی سردار نے ایک جرگہ بلایا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ اتحادی فوجیوں نے قبائلی سرزمین پر قدم رکھنے کی کوشش کی تو بیس لاکھ قبائل سروں پر کفن باندھ کر بھر پور جواب دیں گے۔ یاد رہے کہ اس پہلے کئی بار اتحادیوں نے سرحد کی خلاف ورزی کی تھی۔گیارہ جون کو مہمند ایجنسی میں پاکستانی سکیورٹی فوسز کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایاگیا تھا جس کے نتیجہ میں گیارہ سکیورٹی اہلکاروں سمیت انیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں جوابی کارروائی کا دعویٰ12 July, 2008 | پاکستان امریکی گولہ باری، آٹھ فوجی زخمی11 July, 2008 | پاکستان ’فاٹا میں پہلے سے زیادہ شدت پسند‘11 July, 2008 | پاکستان مہمند ایجنسی حملہ: گیٹس کا اظہارِ افسوس02 July, 2008 | پاکستان خوست: خاتون اور تین بچے ہلاک22 June, 2008 | پاکستان تحقیقات: امریکی پیشکش کا خیرمقدم14 June, 2008 | پاکستان ’حملے کی تحقیقات کررہے ہیں‘12 June, 2008 | پاکستان دہشتگردی تعاون کو خطرہ12 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||