’حملے کی تحقیقات کررہے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی مہمند ایجنسی میں کل پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے جس میں گیارہ پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی فوجیوں نے اس بابت کابل میں ایک ویڈیو فلم بھی جاری کی ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے جاری ویڈیو بغیر پائلٹ کے طیارے سے بنائی گئی تھی جس میں اتحادی افواج کی جانب سے ایک پہاڑی کے پیچھے چھپے سات مشتبہ افراد کے ایک گروہ کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے تاہم اس میں کوئی پاکستانی چوکی نظر نہیں آ رہی۔ کابل کے شمال میں بگرام کے فوجی اڈے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں البتہ امریکی فوجی حکام نے واضع کیا کہ وہ اس کارروائی کے دوران کسی بھی وقت پاکستانی علاقے میں داخل نہیں ہوئے۔ ادھر کل رات گئے اسلام آباد میں امریکی سفیر این پیٹرسن کو وزارت خارجہ طلب کرکے پاکستان نے باضابطہ احتجاج اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے امریکی سفیر کو بتایا کہ یہ بین الاقوامی سرحد کی بلا اشتعال خلاف ورزی کا واقع ہے۔ انہوں نے پاکستانی چوکی کو نشانہ بنانے کے واقعے کو ناقابل قبول اقدام قرار دیا۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ایک مختصر بیان میں مہمند ایجنسی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی بھی کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں امریکی حملہ جائز تھا: پینٹاگون12 June, 2008 | پاکستان افغان حملہ: میجر، آٹھ طالبان ہلاک11 June, 2008 | پاکستان امریکی حملہ،گیارہ پاکستانی فوجی ہلاک۔ حملہ بزدلانہ ہے، جارحیت ہے: پاکستان11 June, 2008 | پاکستان ’طاقت کا بےجا استعمال قبول نہیں‘11 June, 2008 | پاکستان پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام10 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||