تحقیقات: امریکی پیشکش کا خیرمقدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے قبائلی علاقے میں امریکی حملے کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کو خوش آمدید کہا ہے۔ امریکی فوج کے حملے میں گیارہ پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے یہ بیان پیرس میں امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس سے ملاقات سے قبل دیا۔ واشنگٹن نے پاکستان اور افغانستان کے ساتھ اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔ شاہ محمود قریشی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو کہا کہ ’میرے خیال میں مشترکہ تحقیقات کارآمد ہوں گی۔‘ انہوں نے امریکی فوجی سے کہا کہ پاکستانی فوج سے زیادہ تعاون رکھیں کیونکہ ہلاکتیں سرحدی علاقے میں امن بحال کرنے کی حکومتی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ’ایسے واقعات مدد نہیں کرتے۔ ہمیں وہاں کی مقامی آبادی کی حمایت حاصل کرنا ہے۔‘ کونڈولیزا رائس اور وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس جمعہ کو ہلاک ہونے والے فوجیوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے افغانستان میں امریکی فوج نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی مہمند ایجنسی میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ کابل کے شمال میں بگرام کے فوجی اڈے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں البتہ امریکی فوجی حکام نے واضع کیا کہ وہ اس کارروائی کے دوران کسی بھی وقت پاکستانی علاقے میں داخل نہیں ہوئے۔ | اسی بارے میں ’حملے کی تحقیقات کررہے ہیں‘12 June, 2008 | پاکستان امریکی حملہ جائز تھا: پینٹاگون12 June, 2008 | پاکستان افغان حملہ: میجر، آٹھ طالبان ہلاک11 June, 2008 | پاکستان امریکی حملہ،گیارہ پاکستانی فوجی ہلاک۔ حملہ بزدلانہ ہے، جارحیت ہے: پاکستان11 June, 2008 | پاکستان ’طاقت کا بےجا استعمال قبول نہیں‘11 June, 2008 | پاکستان پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام10 June, 2008 | پاکستان امریکی حملے پر سرحد کا ردِ عمل12 June, 2008 | پاکستان دہشتگردی تعاون کو خطرہ12 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||