دہشتگردی تعاون کو خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں سے مذاکرات کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کےاعلان نے سرحد پار افغانستان میں سرگرم امریکی اور نیٹو افواج کو واضع طور پر پریشان کیا ہے۔ مہمند ایجنسی میں پیش آنے والا واقعہ جس میں گیارہ پاکستانی فوجی اپنے ہی اتحادیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے شاید اسی بےچینی اور اضطرابی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان، امریکہ اور افغانستان شدت پسندی کے خلاف جنگ میں ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہیں۔ فریقین کی جانب سے روزانہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خفیہ معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کی بات کی جاتی ہے، منظم کارروائیاں یقینی بنانے کے لیے سرحد پر رابطہ مراکز بنانے کا اعلان کرتے ہیں اور سہ فریقی کمیشن قائم کرتے ہیں لیکن ان تمام انتظامات کے باوجود ایسے واقعات کا رونما ہونا حیران کن ہے۔ مہمند ایجنسی کا یہ واقعہ آخر کیوں پیش آیا؟ اس کا جواب یقیناً امریکہ فوجی حکام کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے اس بابت ایک ویڈیو بھی کابل میں دکھائی ہے جس میں بقول ان کے کوئی پاکستانی چوکی یا فوجی دکھائی نہیں دے رہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان نے امریکی اور نیٹو فورسز کو اپنی سرحد پر قائم تقریباً ایک ہزار چوکیوں کی معلومات فراہم کی ہیں یا نہیں؟ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یہ پاکستان کی غفلت ہے اور اگر ایسا کیا گیا ہے تو پھر امریکی فوجیوں کی جانب سے انہیں نشانہ بنانا یقیناً ظالمانہ کارروائی ہے۔ پاکستان کا بپھرا ہوا ردعمل بھی شاید اسی وجہ سے ماضی سے قدرے سخت ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ امریکی سفیر کو کسی حملے کے نتیجے میں دفتر خارجہ طلب کیا گیا ہو۔ ماضی میں باجوڑ حملے پر بھی اسی قسم کا ردعمل ظاہر ہوا تھا تاہم اس مرتبہ قدرے ’خطرناک‘ بات دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے کے فیصلے پر نظرثانی کی دھمکی بھی ایک آدھ پاکستانی بیان میں سامنے آئی۔ امریکہ نے ماضی میں دیگر ممالک کے فوجیوں کے ساتھ بھی افغانستان میں یہی کچھ کیا لیکن تحقیقات کے سامنے آنے کے بعد معذرت بھی کی اور شاید ایک آدھ فوجی کو سزا بھی دی۔ تاہم پاکستان کے بارے میں کبھی کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی تفصیلی تحقیقات کی گئی ہیں۔ قبائلی علاقوں کے اندر امریکی طیاروں کے حملوں سے ایک اندازے کے مطابق پچاس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان کی بھی کبھی امریکیوں نے وضاحت کی ضرورت نہیں سمجھی کہ آخر ان حملوں کا ہدف کون تھا۔ ہفتہ دس دن بعد کہیں سے خبر آتی ہے کہ اس حملہ میں القاعدہ کا فلاں رہنماء ہلاک ہوا ہے۔ اس سے تو ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے امریکہ قبائلی علاقوں میں باقاعدہ خود ایک خفیہ جنگ میں مصروف ہے۔ مہمند ایجنسی کے واقعہ کے پیچھے بظاہر امریکی فوجیوں کی ایک نفرت ہے۔ وہ ہر پاکستانی فوجی کو طالبان کا ساتھی مانتے ہیں۔ اس تاثر کی تصدیق محض چند روز قبل ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ سے بھی سامنے آیا تھا جس میں اس نے نیم فوجی ملیشیا فرنٹیئر کور اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں چند عناصر کی جانب سے طالبان کی ڈھکی چھپی حمایت کا الزام عائد کیا تھا۔
امریکہ بدستور اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ اس نے اس حملے کو جائز قرار دیا اور معذرت کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی۔ امریکہ کو اپنی سوچ یقینا تبدیل کرنا ہوگی اور کسی ملک کی اپنی فوج کے ایک لاکھ سے زائد جوانوں کو محض ان کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات کرنے کا اس طرح شکریہ ادا نہیں کرنا ہوگا۔ اس طرح کی اموات سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ یقینی ہے لیکن ساتھ میں پاکستانی عوام میں موجود امریکہ مخالف جذبات کو بھی تقویت ملے گی۔ | اسی بارے میں امریکی حملہ جائز تھا: پینٹاگون12 June, 2008 | پاکستان افغان حملہ: میجر، آٹھ طالبان ہلاک11 June, 2008 | پاکستان امریکی حملہ بزدلانہ تھا: پاک فوج11 June, 2008 | پاکستان پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام10 June, 2008 | پاکستان ’روشنی و آگ والے بم پھینکےگئے‘11 June, 2008 | پاکستان امریکی حملہ،گیارہ پاکستانی فوجی ہلاک۔ حملہ بزدلانہ ہے، جارحیت ہے: پاکستان11 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||