عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | ایک جنگی طیارہ آیا اور اس نے کچھ ہی فاصلے پر واقع فرنٹیئر کور کے چیک پوسٹ پر بمبار ی شروع کردی |
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر اتحادی افواج کے فضائی حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے سترہ سالہ عبدالغفار کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی بمباری میں سب سے پہلے وہاں پر فرنٹیئر کور کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے عبدالغفار کا کہنا تھا کہ گزشتہ شب وہ شیخ با با کے مقام پر اپنے چند ساتھیوں کے ہمرا بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران انہیں سرحد پر دو طرفہ فائرنگ کی آواز سنائی دی جس کے بعد کچھ دیر کے لیے خاموشی چھاگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تھوڑی دیر کے بعد ایک جنگی طیارہ آیا اور اس نے کچھ ہی فاصلے پر واقع فرنٹیئر کور کے چیک پوسٹ پر بمبار ی شروع کردی۔ ان کے بقول ’حملے سے قبل میں نے وہاں پر درجنوں اہلکاروں کو دیکھا تھا مگر بمباری کے بعد کوئی بھی نظر نہیں آیا‘۔ عبدالغفار کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے بعد طیارہ نے ہمارے اردگرد پرواز شروع کردی اور اس دوران کچھ اس قسم کے بم گرائے گئے جس سے آگ لگ جاتی اور چاروں طرف روشنی پھیل جاتی تھی۔ ان کے بقول ’آگ لگنے کے بعد طیارے سے فائرنگ شروع ہو گئی اور گولے ہمارے ارد گر گرتے رہے۔ اس دوران میرے دو ساتھی ہلاک ہوگئے جبکہ مجھے بھی ایک گولہ لگا اور میں پہاڑی کی چوٹی سے لڑھک کر نیچے گر پڑا جسکے نتیجے میں میرا دایاں ہاتھ ٹوٹ گیا ہے اور چہرہ بھی زخمی ہوگیا۔، عبدالغفار کے مطابق اس دوران ’جیٹ طیارے‘ نے چار چکر لگائے اور وقفے وقفے سے آس پاس کے پہاڑوں پر بمبار کرتارہا۔ ان کے بقول ’مجھے صرف دو ساتھیوں کی ہلاکت کا پتہ ہے اور میں پہلا زخمی ہوں جس سے اٹھا کر ہسپتال پہنچایا گیا ہے‘۔ |