BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 August, 2008, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’احتساب چاہیے، انتقام نہیں‘

مشرف اور گیلانی
اپوزیشن اور حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کریں
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ احتساب چاہتے ہیں لیکن احتساب اور انتقام میں بہت معمولی فرق ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ہم انتقام لیں۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے صدر مشرف کے استعفے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے اپوزیشن اور حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کریں۔

وزیر اعظم نے کہا ’آمریت کا خاتمہ ہو گیا ہے لیکن ہم پر بہت بڑی ذمہ داری پڑ گئی ہے۔ آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ آیا اس ملک میں جمہوریت کامیاب ہو سکتی ہے یا آمریت کامیاب ہو سکتی ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ آمریت جتنی بھی بہتر ہو جمہوریت سے بہتر نہیں ہو سکتی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ سترھویں ترمیم اور اٹھاون ٹو بی کو نہ پہلے قبول کرتے تھے اور نہ اب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی کہتے تھے کہ صدر اور پارلیمان کے درمیان توازن ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ مل کر اداروں کو مضبوط کریں کیونکہ جب بھی جمہوریت کمزور پڑتی ہے تو آمریت کو موقع ملتا ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے مختصر خطاب میں کہا ’مجھے جنہوں نے بھی جیل میں ڈالا ان کے خلاف کوئی انتقامی نیت نہیں ہے اور میں ان کو معاف کرتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ادارے مستحکم ہونے چاہیں اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹی مضبوط کرنی چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سچ اور مفاہمتی کمیٹی بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے تمام اراکین کو حکومت کی مدد کرنی ہو گی کیونکہ اکیلا وزیر اعظم کچھ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو دو بڑے مسائل درپیش ہیں اور ان کا حل ڈھونڈنا ہو گا ایک تو ہے معیشت اور دوسرا امن و امان۔

انہوں نے میڈیا، وکلاء اور عدالتی سرگرمی کو سراہا اور کہا کہ ان کا جمہوریت کے لیے بہت بڑا کردار ہے۔

تاہم ڈپٹی سپیکر نے سپیکر کے آنے سے پہلے پارلیمان کو بتایا تھا کہ صدر مشرف کا استعفیٰ اسمبلی میں پڑھا جائے گا لیکن اسمبلی کے اجلاس کے دوران نہیں پڑھا گیا اور اجلاس منگل تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل سوموار کے روز قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے ممبران نے سابق صدر کو گارڈ آف آنر دینے کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ اس طرح آمریت ملک سے کبھی ختم نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ لاکھوں افراد کے قاتل کو تو گارڈ آف آنر دیا جا رہا ہے جب کہ ایک عام آدمی کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا جاتا ہے۔

اسمبلی میں مسلم لیگ قاف کی رکن شہناز شیخ نے صدر مشرف کو خراج تحسین پیس کرنے کی قرارداد پیش کی جس پر حکومتی ممبران نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔

مسلم لیگ نواز کے رکن کیپٹن صفدر نے کہا کہ صدر مشرف نے تین بار آئین توڑا اور وہ کارگل اور لال مسجد میں شہید ہونے والوں کے ذمہ دار ہیں اس لیے ان کو محفوظ راستہ نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شروع ہی میں آمر کو مثال بنا دیا جاتا تو فوجی حکمران یہ ہمت نہ کرتے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایبٹ آباد میں ایوب میڈیکل کالج کا نام تبدیل کر کے مادر ملت فاطمہ جناح میڈیکل کالج رکھ دیا جائے۔

اسمبلی کے اجلاس سے قبل حکمران اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کی۔

حکمران اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں زیادہ تر کا مؤقف تھا کہ صدر مشرف کا احتساب ہونا چاہیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مظفر گڑھ سے ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر مشرف کا احتساب اس لیے ہونا چاہیے کہ آئیندہ اس عمل کو روکا جا سکے اور کوئی شب خون نہ مار سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد