BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 August, 2008, 08:54 GMT 13:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جشنِ آزادی پر دو مرکزی تقریبات

جشن آزادی
ایوانِ صدر کی تقریب میں وزیرِ اعظم اور کابینہ کے کسی رکن نے شرکت نہیں کی
پاکستان کے باسٹھویں یوم آزادی کے موقع پر صدر اور وزیر اعظم نے جمعرات کو الگ الگ تقریبات منعقد کیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ یوم آزادی کی دو مرکزی تقریبات منعقد کی گئیں۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جب جمعرات کی صبح کنوینشن سینٹر میں پرچم کشائی کی تو اس تقریب میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، بیشتر وزراء، سینئر بیوروکریٹس، صحافی اور سفارتکار بھی شریک ہوئے۔

صدر پرویز مشرف نے تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب ایوان صدر میں سلام پاکستان کی جو تقریب منعقد کی اس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی یا ان کی کابینہ کے کسی رکن اور آرمی چیف نے شرکت نہیں کی۔

صدر مشرف نے سلام پاکستان کی تقریب تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب منعقد کی

البتہ ایوان صدر کی تقریب میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان شریک ہوئے۔ ایوان صدر میں جمعرات کی صبح تمغے اور اعزازات دینے کی ایک تقریب منعقد ہوئی اس میں بھی وزیراعظم اور ان کی کابینہ یا آرمی چیف نے شرکت نہیں کی۔

فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب آرمی چیف جنرل کیانی نے یوم آزادی کے سلسلے میں کاکول میں تقریب میں شرکت کی۔

ان کے مطابق چودہ اگست کی صبح آرمی چیف نے وزیراعظم کی پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی اور اس کے بعد راولپنڈی میں سینئر فوجی افسران اور ریٹائرڈ فوجیوں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں حکمران اتحاد نے صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کی ہے آرمی چیف کی وزیراعظم کی تقریب میں شرکت سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے کہ فوج صدر پرویز مشرف کے ساتھ نہیں۔

گزشتہ شب ایوان صدر میں منعقد تقریب میں صدر کو سگار پیتے اور پان کھاتے ہوئے بھی دیکھا گیا اور بظاہر انہوں نے یہ تاثر دیا کہ وہ مواخذے کی تحریک سے پریشان نہیں ہیں۔ حکومت کی جانب سے صدر کے مواخذے کے اعلان کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وہ کسی عوامی تقریب میں نظر آئے۔

آرمی چیف کی شرکت
 ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں حکمران اتحاد نے صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کی ہے تو آرمی چیف کی وزیراعظم کی تقریب میں شرکت سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے کہ فوج صدر پرویز مشرف کے ساتھ نہیں۔

صدر نے تقریب سے خطاب میں اپنے مواخذے کے بارے میں براہ راست تو کوئی بات نہیں کی تاہم ملکی سلامتی کی خاطر ٹکراؤ کے بجائے مصالحت پر زور دیا۔ صدر نے ملکی سلامتی کے لیے ’ملٹری اور معیشت کے استحکام‘ کی نئی اصطلاح بھی متعارف کروائی۔

صدر کی گزشتہ رات کی تقریر میں کئی بار دعائیہ فقرے بھی سننے کو ملے جس پر ایک صحافی نے کہا کہ صدر امریکہ، آرمی اور عدلیہ سے مایوسی کے بعد اب اللہ کو کثرت سے یاد کر رہے ہیں۔

صدر پرویز مشرف نے اپنی تقریر میں ملکی استحکام کے لیے فوج اور قوم کے متحد ہونے کو بھی لازمی جز قرار دیا۔ لیکن وزیراعظم کی تقریر میں ملکی استحکام کے لیے حکومت اور عوام کے متحد اور متقق ہونے پر زور دیا گیا۔

پرویز مشرف(فائل فوٹو)برخاستگی کی تاریخ
جناح کے علاوہ سب غیر معمولی حالات میں گئے
 قومی اسمبلیدو تہائی اکثریت
مواخذہ: ایوان میں کس کے پاس کتنی سیٹیں
زرداری کا انٹرویو
زرداری ایوان صدر سے تصادم کے راستے پر؟
افواہیں غلط: مشرف
امریکہ یا ترکی نہیں جا رہا ہوں: صدر مشرف
مشرف کا مستقبل
’حکمران اتحاد ٹوٹا تو صدر کی نوکری پکی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد