BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 January, 2008, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موبائل کنکشن کے لیےانگوٹھے کا نشان

موبائل فون
پانچ برسوں میں موبائل فون صارفین کی تعداد سات کروڑ تک جا پہنچی ہے
حکومت پاکستان نے موبائل فون کے دہشت گردی جیسے غلط استعمال کو مدِنظر رکھتے ہوئے موبائل فون کے نئے کنکشن کے لیے صارفین کے انگوٹھے کے نشان بھی دینا لازم کر دیا ہے۔

نگران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عبداللہ ریار نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ اقدام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سفارش، سپریم کورٹ اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ پانچ برسوں میں موبائل فون صارفین کی تعداد سات کروڑ تک جا پہنچی ہے ایسے میں اس سہولت کے دہشت گردی اور دوسروں کو تنگ کرنے کے لیے استعمال کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

نئے موبائل فون کنکشن کے لیے حکومتی پالیسی کے تحت اب ملکی صارف کو قومی شناختی کارڈ کے علاوہ انگوٹھے کا نشان بھی دینا لازم ہوگا۔ اس کے علاوہ غیرملکیوں کے لیے پناہ گزین کارڈ یا پاسپورٹ ضروری ہوگا۔ بچوں کی صورت میں فارم ب فراہم کرنا لازم ہوگا۔

 ہر کمپنی اپنے صارف کو ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی معلومات درست کرانے کے لیئے دو ماہ کا وقت دے گی جس کے بعد ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ نمبر ایک ماہ کے لیئے یک طرفہ کرنے کے بعد منقطع کر دیا جائے گا۔

ڈاکٹر عبداللہ ریار نے کہا کہ ایک شناختی کارڈ پر ایک کمپنی سے دس سے زیادہ کنکشن نہیں لیے جا سکیں گے اور موبائل کمپنی کے لیے نئے صارف کی تصدیق نادرا سے بھی کروانا لازم ہوگا۔ اس کے علاوہ موبائل کمپنیوں کو اب اپنے کنکشن دینے والے دفاتر کی فہرست بھی حکومت کو دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام موبائل کمپنیوں سے کہا ہے کہ آئندہ تین ماہ میں تمام کنکشنز کی معلومات کے ذخیرے کی ازسرنو ترتیب کریں۔ ہر کمپنی اپنے صارف کو ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی معلومات درست کرانے کے لیے دو ماہ کا وقت دے گی جس کے بعد ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ نمبر ایک ماہ کے لیئے یک طرفہ کرنے کے بعد منقطع کر دیا جائے گا۔

نگران وزیر ڈاکٹر عبداللہ ریار کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ذریعے اس سہ ماہی پروگرام پر عمل درآمد آج سے شروع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار کو تمام کمپنیوں اور صارفین کی رائے لینے کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک موبائل کمپنیاں ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد کنکشن دہشت گردی یا دیگر غلط استعمال کی وجہ سے بند کر چکی ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں اقرار کیا کہ لینڈ لائین فون ڈائریکٹری کی طرز پر موبائل فون کی فہرست بھی جاری کی جانی چاہیے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔

اسی بارے میں
ایس ایم ایس سے انتخابی مہم
22 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد