سینیٹ انتخابات کی بھاگ دوڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمراں پیپلز پارٹی پہلی جماعت ہے جس نے پارلیمان کے ایوان بالا یا سینیٹ کے اس سال مارچ میں متوقع انتخابات میں دلچسپی رکھنے والوں سے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ تاہم اس سے قبل ہی اکثر سیاسی جماعتوں نے بھاگ دوڑ شروع کر دی ہے۔ سیاسی پنڈتوں کو توقع ہے کہ حکمراں پیپلز پارٹی ان انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے میں کامیاب رہے گی تاہم مسلم لیگ (قاف) سب سے زیادہ نقصان اٹھائے گی۔ اسی متوقع کامیابی کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن اور صدر آصف علی زرداری پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ ان کی اتحادی حکومت ان انتخابات میں مزید مضبوط ہو جائے گی۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ سینیٹ انتخابات کے بعد سترہویں آئینی ترمیم کے خاتمے یا اس میں ترمیم کے بارے میں سوچے گی۔ اس اعتبار سے ان انتخابات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ تاہم مسلم لیگ (نون) نے پیپلز پارٹی یا انتخابات کا انتظار کیے بغیر قومی اسمبلی میں ایک بل جلد از جلد متعارف کروانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ جنوری کی پہلے ہفتے میں سینیٹ کی پچاس نشستوں پر انتخاب کے شیڈول کا اعلان کر دیا جائے گا جس کے تحت بارہ مارچ تک نئے سینیٹرز حلف لیں گے۔ لیکن پہلے ہفتے کے گزر جانے کے باوجود یہ شیڈول سامنے نہیں آیا ہے۔ انتخابی کمیشن کے مطابق یہ انتخاب دس فروری اور گیارہ مارچ کے درمیان میں متوقع ہے۔ سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (قاف) اپنی سینتیس نشستوں میں سے سترہ سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔ اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی جماعت اسلامی کی ایوان سے نمائندگی کم ہو جائے گی جبکہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کو بھی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) بھی عام انتخابات میں خراب کارکردگی کی وجہ سے ایوان سے باہر ہو جائے گی۔ یہ تینوں جماعتیں اپنی دو دو نشستیں کھو دیں گی۔ ریٹائر ہونے والی اہم شخصیات میں سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو، وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک، اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ، مولانا عبدالغفور حیدری، مشاہد حسین سید، نثار میمن، خالد رانجھا، اقبال ظفر جھگڑا، مولانا سمیع الحق، نصیر مینگل، ولی محمد بادینی، پروفیسر ساجد میر، حاجی محمد عدیل، پری گل آغا، علامہ عباس کمیلی، انیسہ زیب خیلی، بابر غوری، چودھری انور بھنڈر، محمد علی بروہی، حافظ عبدالمالک قادری، امین دادا بھائی، انور بیگ، رضا محمد رضا، دلاور عباس اور ظفر چودھری شامل ہیں۔ دو آزاد اراکین سرمایہ کاری کے وزیر وقار احمد خان اور ان کے والد گلزار احمد خان بھی ریٹائر ہوں گے۔ انہوں نے بعد میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ سینیٹ کے ان انتخابات کے بعد چیئرمین سینیٹ کو منتخب کیا جائے گا۔ چاروں صوبوں میں اس وقت مختلف صورتحال ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ خالی ہونے والی نشستوں میں ایک وفاقی دارالحکومت جبکہ سات سات ہر صوبے سے ہوں گی۔ ٹیکنوکریٹس، خواتین اور علماء کی ہر صوبے سے دو مخصوص نشستوں پر جبکہ وفاقی دارالحکومت سے خاتون کی ایک نشست پر دوبارہ انتخاب ہوگا۔ گزشتہ برس کے عام انتخابات میں بہتر کارکردگی کی بنیاد پر توقع ہے کہ پیپلز پارٹی کے علاوہ عوامی مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم بھی اپنی پوزیشنیں مستحکم کر پائیں گی۔ | اسی بارے میں پچاس سینیٹر آئندہ مارچ ریٹائر ہونگے26 December, 2008 | پاکستان اپنے سینیٹرز کے خلاف ایکشن 03 September, 2008 | پاکستان ’غیرت کے نام پر قتل کو اہمیت دو‘31 October, 2008 | پاکستان نصیرآباد:’رپورٹ ایک ماہ میں دیں‘12 September, 2008 | پاکستان سینیٹ: بلوچستان پالیسی پر تنقید25 August, 2008 | پاکستان نیب کے خلاف متفقہ قرار داد08 August, 2008 | پاکستان حملے پارلیمان کی توہین: ربانی24 October, 2008 | پاکستان سینیٹ کا اجلاس چار اگست کو 26 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||