اپنے سینیٹرز کے خلاف ایکشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ (ق) نے سینیٹ کے قائمقام چیئرمین میر جان جمالی کی آٹھ سینٹرز کے ہمراہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات اور مبینہ طور پر صدر کے انتخاب میں آصف زرداری کی حمایت کی یقین دہانی کروانے پر قانونی کارروائی کے دھمکی دی ہے ادھر جان جمالی اور دیگر سینیٹرز نے ایسی کسی کارروائی کی پروا نہ کرتے ہوئے صدارتی انتخاب میں اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ ق کے ارکان کے درمیان یہ تنازعہ بدھ کے روز سینیٹ کے اجلاس میں اس وقت کھڑا ہوا جب قائد حزب اختلاف سینیٹر کامل علی آغا نے نکتہ اعتراض پر تقریر کے دوران قائمقام چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ سینٹرز سمیت وزیراعظم سے ملاقات کرکے اور انہیں صدارتی انتخاب میں اپنی حمایت کا یقین دلا کر جان جمالی نے پارٹی پالیسی کے خلاف ورزی کی ہے۔ مسلم لیگ ق کے پارلیمانی لیڈر نے اجلاس کی صدارت کرنے والے چیئرمین سینیٹ سے کہا کہ اگر صدارتی انتخاب کے انعقاد سے پہلے انہوں نے اس خبر کی تردید نہ کی تو انکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو اپنے ارکان کے مخالف جماعت کے وزیراعظم سے ملنے اور انہیں ووٹ کی یقین دہانیاں کروانے پر سخت تشویش ہے اور مذکورہ ارکان کو اسکا ازالہ کرنا چاہئیے۔ کامل علی آغا کے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ میر جان جمالی نے کہا کہ وہ سرکاری حیثیت میں جس سے چاہیں مل سکتے ہیں اور اسکے لئے انہیں کسی کی اجازت درکار نہیں ہے۔ جہاں تک پارٹی ڈسپلن کا تعلق ہے، جان جمالی نے کہا کہ وہ اپنے اثر ورسوخ کی وجہ سے سینیٹر بنے ہیں اور مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ کی نہ انہیں پہلے ضرورت تھی اور نہ اب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے صوبے بلوچستان کی سیاست کرتا ہوں اور اسی بنا پر سینٹر بنا ہوں اگر کسی کو میرے خلاف کارروائی کرنے کا شوق ہے تو پورا کر لے‘۔ دو روز قبل میر جان جمالی کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے سینیٹر ظفر اقبال چوہدری نے کہا کہ وہ کامل علی آغا نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیں گے اور اس بارے میں انکی جماعت کے پارلیمانی لیڈر کی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے۔ اپنی جماعت کے ارکان سینیٹ کے ان ریمارکس پر قائد حزب اختلاف نے سینیٹ سے واک آؤٹ کا اعلان کیا تاہم جب وہ ہال سے باہر گئے تو ان کی جماعت کے صرف تین رکن انکے ہمراہ تھے ہال میں موجود ق لیگ کے باقی ارکان نے اس واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا۔ | اسی بارے میں صدراتی انتخاب، کاغذات جمع26 August, 2008 | پاکستان ’صدر کا کردار علامتی ہونا چاہیے‘25 August, 2008 | پاکستان آصف زرداری صدر بننے پر رضامند23 August, 2008 | پاکستان صدر کا انتخاب چھ ستمبر کو22 August, 2008 | پاکستان ’صدرآصف زردی ‘ مہم شروع21 August, 2008 | پاکستان ’صدر کے خطاب کی تیاریاں مکمل‘ 18 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کے خطاب کا متن18 August, 2008 | پاکستان صدر کا خطاب شروع، کارکردگی کا دفاع18 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||