BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2009, 22:02 GMT 03:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات:’بارہ سو ہلاک،لاکھوں بےگھر‘

سوات میں فوج
’سکیورٹی فورسز نے لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا ہے‘
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ سوات سمیت ملک کے دیگر حصوں کے شہریوں کو مبینہ شدت پسندوں سے تحفظ دلائیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت سوات میں ایک ایسی فوجی حکمت عملی اپنائے جس کے تحت شہریوں کی زندگیوں کو خطرات میں ڈالے بغیر ان کے حقوق کا احترام ہو۔

تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں سرکاری حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سوات میں فوج اور طالبان کے درمیان ہونے والی کارروائیوں میں بارہ سو شہری ہلاک اور دو سے پانچ لاکھ تک بےگھر ہوچکے ہیں۔

ایشیاء کے لیے ایمنسٹی انٹرنینشل کے ڈائریکٹر سام ظریفی کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے گزشتہ پانچ سال سے سوات اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کی روک تھام کے لیے ایسی غیر متزلزل، بے ترتیب اور غیر موزوں کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو نقصان پہنچا ہے اور انہیں شدت پسندوں کی رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جو ان کے ساتھ زیادتیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سوات میں مولانا فضل اللہ کے حامی طالبان نے تقریباً اسّی فیصد علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جہاں پر انہوں نے متوازی حکومت قائم کرتے ہوئے لوگوں کو’سستا اور جلد انصاف‘ فراہم کرنے کے لیے ستّر کے قریب عدالتیں لگائی ہیں۔

مینگورہ، تحصیل مٹہ اور تحصیل کانجو سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے

ان کے بقول سوات کے طالبان نے وکلاء کو بھی دھمکیاں دی ہیں کہ اگر انہوں نےملکی عدالتوں میں کام کرنا جاری رکھا تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔تنظیم نے مزید کہا ہے کہ طالبان انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور کئی ایسے حکومتی اہلکاروں اور دیگر افراد کو غیر قانونی طور پرقتل کر دیا گیا ہے جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ انہوں نے ان کے احکامات سے روگردانی کی ہے۔

اس کے علاوہ طالبان نے سرِ عام لوگوں کو کوڑے مارے ہیں، میوزک کی دکانوں کو تباہ کردیا ہے جبکہ خواتین کو بغیر مرد کے گھر سے باہر نکلنے پر زبردستی پابندی لگادی ہے۔

سام ظریفی کا کہنا ہے کہ ’طالبان نے لوگوں کی جان اور حقوق کی توہین کی ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے لوگوں کے ان بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا ہے جن کی وہ بظاہر حفاظت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں‘۔

ایمنسٹی انٹر نینشل نے طالبان کی جانب سے تعلیم بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف اقدامات کی مذمت کی ہے۔ ان کے بقول طالبان نے اٹھارہ ماہ کے دوران ایک سو ستر سکولوں کو تباہ کیا ہے جن میں سو سے زائد لڑکیوں کے تعلیمی ادارے ہیں۔

ان کے مطابق سرکاری اعداد شمار کے مطابق سکولوں پر حملوں کی وجہ سے پرائمری سے کالج کی سطح تک پچاس ہزار سے زائد طلبہ وطالبات کی تعلیم متاثر ہوچکی ہے۔

تنظیم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ یکم مارچ کو تعلیمی اداروں کے دوبارہ کھلنے تک ایسےحفاظتی اقدامات اٹھائیں جس سے نہ صرف طلبہ و طالبات بلکہ بے گھر ہونے والے بچوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے تک رسائی ہو۔

اسی بارے میں
سوات: جھڑپیں، نقل مکانی جاری
08 February, 2009 | پاکستان
طالبان ایف ایم، حکومت ناکام
10 February, 2009 | پاکستان
سوات: سردی میں شدید لڑائی
03 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد