BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 December, 2008, 23:51 GMT 04:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد میں مہاجرین کا مظاہرہ

ایک اندازے کے مطابق باجوڑ اور سوات سے تین لاکھ افراد بےگھر ہوئے ہیں

قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی اور سوات کے مہاجرین نے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں ان کی عارضی خیمہ بستیاں ختم کرنے کی بجائے فوجی آپریشن بند کرے تاکہ وہ واپس اپنے گھروں کو جا سکیں۔

منگل کے روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ لاجز کے سامنے باجوڑ ایجنسی اور صوبہ سرحد کے ضلع سوات کے مہاجرین نے مقامی انتظامیہ کی جانب سےان کی عارضی خیمہ بستیاں ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف خاموش احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔

مظاہرے میں شامل مہاجرین کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’ایم آئی ایف ٹی‘ کے سربراہ خورشید علی خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ سکیورٹی رسک کو جواز بنا کر زبردستی انہیں خیمہ بستی ختم کرنے کا کہہ رہی ہے جس کی وجہ سے موسم سرما میں مہاجرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور
 مظاہرے میں شامل ظاہر خان نے بتایا کہ باجوڑ ایجنسی میں فوجی آپریشن میں ان کا گھر بار سب کچھ تباہ ہو گیا اور نقل مکانی کر کے اسلام آباد آ گئے ہیں لیکن یہاں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک خیمہ بستی قائم کی ہے جس میں خواتین اور اور یتیم بچے رہائش پذیر ہیں جبکہ تین سو کے قریب مہاجرین ایسے ہیں جن کے پاس ابھی تک ایک خیمہ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے مشیر داخلہ رحمان ملک کو ایک درخواست لکھی تھی کہ مہاجرین کے لیے خیمے مہیا کیے جائیں تاہم وعدوں کے باوجود ابھی تک کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کی ہے اور اب انتظامیہ نے اچانک بے بس لوگوں کو ایک بار پھر سے بے گھر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر حکومت افغانستان کے پناہ گزینوں کی رہائش فراہم کر سکتی ہے تو اس کے اپنے شہریوں کا کیا قصور ہے۔ تاہم اگر حکومت نے زبردستی مہاجرین کو خیمہ بستیوں سے بے دخل کرنے کی کوشش کی تو بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔

مظاہرے میں شامل ظاہر خان نے بتایا کہ باجوڑ ایجنسی میں فوجی آپریشن میں ان کا گھر بار سب کچھ تباہ ہو گیا اور نقل مکانی کر کے اسلام آباد آ گئے ہیں لیکن یہاں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑی مشکل سے خیمہ بستی میں جگہ ملی تھی لیکن اب وہاں سے بھی نکالا جا رہے جبکہ مزدوری بھی بڑی مشکل سے ملتی ہے جس کی وجہ سے وہ کرایہ کا مکان بھی نہیں لے سکتے ہیں۔ اس لیے ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ باجوڑ میں فوجی آپریشن بند کیا جائے تاکہ ہم دوبارہ سے عزت کی زندگی گزار سکیں۔

ایک اور شخص محد رفیق نے بتایا کہ سوات میں فوج کی گولہ باری کی وجہ سے واپس نہیں جا سکتے ہیں اور یہاں ہمیں کوئی رہنے نہیں دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھ ماہ سے کبھی گھر والوں کو کھانا ملتا ہے اور کبھی چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھوکا سونا پڑتا ہے۔ لیکن پہلے کم از کم رات گزارنے کے لیے خیمہ تو موجود تھا تاہم اب لگتا ہے کہ وہ بھی نہیں رہے گا۔ جبکہ ابھی تک حکومت کے کسی بندے نے آ کر پوچھا تک نہیں کہ ہم کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔

محمد رفیق نے کہا کہ اگر حکومت ہمیں یہاں رہنے کے لیے جگہ نہیں دے سکتی ہے تو اتنی مہربانی کرے کہ سوات میں فوجی آپریشن بند کر دے تاکہ ہم اپنے تباہ حال گھروں کو دوبارہ سے آباد کر سکیں۔

مظاہرے میں شامل تقریباً تمام لوگوں اس کوشش میں تھے کسی نہ کسی صحافی کو بتائیں کہ ہمارے علاقے میں فوجی آپریشن کے دروان ان کا کتنا نقصان ہوا اور کتنے عزیز ہلاک ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ اپنے علاقے سے نقل مکانی کرنے کے بعد سے ان کو کن کن مشکالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مظاہرین سے بات چیت کرنے والے اسلام آباد کے اسسٹنٹ کمشنر سکیرٹیریٹ شہباز طاہر ندیم نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی مختلف خیمہ بستیوں میں رہائش پذیر لوگوں کی الگ الگ دیکھ بھال نہیں کی جا سکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیمہ بستی سکیورٹی رِسک بھی ہوسکتی ہیں اور ان کے ارد گرد رہنے والے عام لوگوں کو مشکلات بھی پیش آسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مہاجرین کو اسلام آباد سے باہر ترنول کے مقام پر پہلے سے موجود خیمہ بستی میں بسانے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

واضع رہے کہ غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی اور صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں فوجی آپریشن کی وجہ سے تین لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں جو مختلف خیمہ بستیوں میں مندگی گزار رہے ہیں۔

سوات کشیدگیسوات کشیدگی
سوات کشیدگی: لوگوں کی نقل مکانی، تصاویر
سوات سے در بدر
’کراچی میں جہاز کی آواز سے بچے خوفزدہ‘
طالبان کا ’قبضہ‘
باجوڑ میں ڈسپنسری، سکول پر طالبان ’قابض‘
باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانیباجوڑ کے مہاجر
باجوڑ سے آنے والے خواتین اور بچے
نقل مکانی پر مجبور پاکستانیبے گھر پاکستانی
لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی کی زندگی پر مجبور
چیک پوسٹجگہ جگہ تلاشی
سوات میں لوگ چیک پوسٹوں سے پریشان
ڈما ڈولاجیت کی کلید
موجودہ آپریشن: باجوڑ میں کامیابی اہم کیوں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد