پناہ گزین، ’طالبان سے نقصان نہیں ہوا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد باجوڑ سے لاکھوں لوگوں نے نقل مکانی کر کے پشاور اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ ان میں کچھ لوگ پشاور کے کچا گڑھی اور ناصر باغ کی خیمہ بستیوں کے علاوہ نوشہرہ کے علاقے رسالپور میں بھی آ کر آباد ہوئے ہیں۔ رسالپور میں حکومت نے باجوڑ کے متاثرین کے لیے ایک ہسپتال کی ایک خالی عمارت میں ریلیف کیمپ قائم کیا ہے اور ساتھ ہی ایک کھلے میدان میں خیمہ بستی آباد کی ہے۔ اس خیمہ بستی میں دو ہزار سے زیادہ متاثرہ خاندان رہائش پذیر ہیں۔ تاہم یہ متاثرین خوراک، ادویات اور دیگر مسائل کا شکار ہیں۔ رسالپور کیمپ میں آباد لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے بہت پریشان ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کو نہیں معلوم کہ حکومت ان کے ساتھ یہ زیادتی کیوں کررہی ہے۔ کیمپ میں پناہ لینے والے ایک شخص بارہ خان کا کہنا ہے کہ کیمپ میں کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے۔ حکومت جتنا ظلم کررہی ہے اس کی کوئی حد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نےنہ طالبان کو دیکھا ہے اور نہ ہی طالبان کے ہاتھوں یا زبان سے ان کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔ بلکہ وہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی اور شیلنگ سے مجبورہوکر یہاں پہنچے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے ان کے لیے کیمپ لگایا ہے لیکن کیمپ میں کسی قسم کی سہولت موجود نہیں ہے۔ بارہ خان کے مطابق کیمپ میں بچوں کے لیے ایک سکول بھی قائم کیا ہے لیکن سکول میں پڑھائی نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انتہائی مشکل حالت میں یہاں پہنچے ہیں اور راستے میں کئی بچے اور خواتین چل بسے۔
چارمنگ کے رہائشی دوست محمد نے بتایا کہ ریلیف کیمپ میں تقسیم کا کوئی معیار نہیں ہے۔ آٹے، گھی اور دوسری اشیاء کی تقسیم میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کونسا خاندان بڑا ہے اور کونسا چھوٹا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خاندان بڑا ہو یا چھوٹا ہر خاندان کو ایک تروڑہ یعنی ایک چھوٹا تھیلا آٹے کا ملتا ہے۔ گھی اور دال بھی اسی حساب سے ملتی ہے۔ دوست محمد کا کہنا تھا کہ جو آٹا ان کو مل رہا ہے وہ آٹا جانوروں کے کھانے کے بھی قابل نہیں ہے لیکن وہ مجبوری کی وجہ سے کھا رہے ہیں۔ ایک سکول کے طالب علم نظام الدین نے بتایا کہ وہ جنگ کی وجہ سے یہاں آے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں بہت خوش تھے اور یہاں وہ مایوسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ’باجوڑ میں مکان میں رہتے تھے لیکن یہاں خیموں میں ایک ویران زندگی سے دو چار ہیں۔‘ نظام الدین نے کہا کہ باجوڑ میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سکول جایا کرتے تھے لیکن یہاں دو بھائی اور چار بہنوں کے علاوہ ان کا کوئی دوست نہیں ہے۔ اور جو دوست تھے وہ دوسرے کیمپوں میں چلے گئے ہیں۔ ’میرے والد کراچی میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور گھر کی تمام ذمہ داری میرے کندھے پر پڑی ہیں۔‘ ریلیف کیمپ کے سربراہ نے بتایا کہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ ہر خاندان کو کچھ نہ کچھ آٹا، دال اور دوسری اشیاء مل جائے لیکن اب ان کے لیے بھی سامان پورا کرنا ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ ان کے مطابق پہلے ایک غیر سرکاری تنظیم امہ اکیڈمی والے چینی، دال اور آٹا دے رہے تھے لیکن اب انہوں نے ریلیف دینی بند کردی ہے۔ اب صرف حکومت اور چند دوسری تنظیموں کا سامان آتا ہے جس سے متاثرین مطمئین نہیں ہیں۔ | اسی بارے میں قبائلی علاقوں میں کشیدگی کے بارہ ماہ26 December, 2008 | پاکستان کچا گڑھی، پناہ گزینوں کے مسائل18 December, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں مہاجرین کا مظاہرہ16 December, 2008 | پاکستان پناہ گزین، لوٹے میں شربت اور تیرتے آلو04 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||