’لڑائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں اور سوات میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے لڑائی کے علاوہ حکومت کے پاس اور کوئی چارہ باقی نہیں رہا۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو سوات اور قبائلی علاقہ جات کی صورتحال کے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب میں کہی۔ پہلے تو حکومت فوجی طاقت کے استعمال کو آخری آپشن قرار دیتی رہی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ صدرِ پاکستان نے قبائلی علاقوں اور سوات کی صورتحال کے بارے میں اتنا سخت بیان دیا ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر داخلہ رحمٰن ملک، صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی، وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی، اسفند یار ولی، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا شریک ہوئے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ’انتہا پسندوں اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے متبادل راستہ نہ ہونے کے بعد یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ شدت پسند طاقت کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا عوام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں کسی قیمت پر کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔ صدرِ پاکستان کا یہ بیان بظاہر فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز کے لیے طاقت کے بھرپور استعمال کے لیے ایک کھلا پیغام ہے۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ اجلاس کو سوات اور فاٹا کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بیان کے مطابق اجلاس کی صدر اور وزیراعظم نے مشترکہ صدارت کی، اجلاس میں شدت پسندی کے خلاف لڑائی پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ شدت پسندی کے خاتمے اور متعلقہ علاقوں میں حکومت کی مکمل عملداری کے قیام تک لڑائی جاری رہے گی۔ اجلاس میں سکیورٹی فورسز کے جذبے اور قربانیوں کو سراہا گیا۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں اور وہ قوم کے ہیرو ہیں۔ اجلاس میں شدت پسندوں کے سامنے ڈٹے رہنے والے مقامی قبائل کی ہمت کوبھی سراہا گیا جنہوں نے اپنے مکان اور زمینیں نہیں چھوڑیں۔ ایوان صدر کے ترجمان کے مطابق اجلاس سے پہلے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے صدر آصف علی زرداری سے علیحدگی میں ملاقات بھی کی۔ قبل ازیں صدر آصف علی زرداری نے دو پہر کے کھانے پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی ہے۔ اس بارے میں سرکاری طور پر صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ملکی سیاسی اور سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ | اسی بارے میں سوات: جھڑپیں، نقل مکانی جاری08 February, 2009 | پاکستان سوات میں کرفیو، آپریشن میں تیزی09 February, 2009 | پاکستان سوات: آپریشن ختم کرنے کا مطالبہ11 February, 2009 | پاکستان طالبان ایف ایم، حکومت ناکام10 February, 2009 | پاکستان سوات: سردی میں شدید لڑائی03 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||