اعتزاز کی پیشکش مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن نے وکیلوں کی قومی رابطہ کونسل کے اجلاس میں ان کی پیپلز پارٹی سے وابستگی کی بنیاد پر اٹھائے جانے والے اعتراضات پر کونسل کی سربراہی سے الگ ہونے کی پیشکش کی تاہم کونسل نے ان کی پیشکش کو قطعی طور پر مسترد کر دیا۔ اعتزاز احسن نے یہ بات اتوار کو قومی رابطہ کونسل کے اجلاس کے بعد ہونے والی نیوز کانفرنس کے دوران بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ دوستوں کا یہ خیال ہے کہ وہ پیپلز پارٹی سے تعلق ہونے کی وجہ سے وہ کردار ادا نہیں کر پا رہے جس کی ان سے توقع ہے۔ نیوز کانفرنس میں سپریم کورٹ بار کے صدر علی احمد کرد کے علاوہ حامد خان، منیر اے ملک ، طارق محمود سمیت وکلا کے دیگر رہنما موجود تھے۔ اعتزاز احسن نے بتایا کہ پہلے بھی اسی اعتراض کی بنیاد پر انہوں نے کونسل کی صدارت سے تیسری مرتبہ الگ ہونے کی پیشکش کی تھی لیکن ان پر اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا۔ اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کسی ایک شخص نہیں بلکہ کروڑوں افراد کی جماعت ہے اور وہ جماعت سے اپنی وابستگی ختم نہیں کر سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی پیپلز پارٹی سے وابستگی چالیس سالوں پر محیط ہے اور انہوں نے پارٹی کارکنوں کے ساتھ سڑکوں پر مار کھائی ہے، ضیاالحق کی آمریت میں جیل گئے ہیں اور مختلف تھانوں کےٹھنڈے فرشوں پر راتیں گزاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی اجلاس میں جاتے ہیں اور جاتے رہیں گے ۔ ان کا جماعت کے ساتھ ایک معاملے پر اختلاف ہے اور اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی قائد بینظیر بھٹو کا وعدہ پورا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس جب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے معزول ججوں کو رہا کرنے اعلان کیا تھا اگر وہ اسی وقت ان کی بحالی کا بھی اعلان کر دیتے تو بینظیر بھٹو کا وعدہ بھی اسی دن پورا ہو جاتا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ صدر آصف زرداری کو ہر موقع پر یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے تین مرتبہ تحریری معاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی صورت وکلا تحریک اور معزول ججوں کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ اعتزاز احسن نے بتایا کہ قومی رابطہ کونسل نے معزول چیف جسٹس کی بحالی کے لیے شاہراہ دستور پر غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دینے کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ اور دھرنے کو کامیاب بنانے کے لیے اسٹیرنگ کمیٹی بنائی گئی ہے جس کے ارکان میں ان کے علاوہ علی احمد کرد، منیر اے ملک، حامد خان، طارق محمود اور حافظ عبدالرحمن انصاری شامل ہونگے جبکہ سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری کی سربراہی میں لانگ مارچ اور دھرنا سیکرٹریٹ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ اعتراز احسن نے کہا کہ اس مرتبہ لانگ مارچ گزشتہ لانگ مارچ سے زیادہ بھرپور ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پچھلے لانگ مارچ کے موقع پر دھرنا دینے کا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا جبکہ اس مرتبہ دھرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور دھرنے کے لیے انتظامات بھی کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سات فروری کو راولپنڈی میں وکلا کی ایک تقریب میں شرکت کریں گے جبکہ اٹھارہ فروری کو جسٹس افتخار محمد چودھری پشاور میں وکلا کنونشن سے خطاب کریں گے۔ |
اسی بارے میں کوریج پر پابندی، بار کا احتجاج23 January, 2009 | پاکستان لاہور آمد پر کڑے حفاظتی انتظامات24 January, 2009 | پاکستان ’سپریم کورٹ کو قربان نہیں کیا جا سکتا‘21 January, 2009 | پاکستان ’صدر زرداری بینظیر بھٹو کا وعدہ پورا کرو‘ 12 January, 2009 | پاکستان وکلاء گروپ بندی کا شکار09 January, 2009 | پاکستان آزاد عدلیہ کے بغیر ترقی ناممکن24 December, 2008 | پاکستان ڈوگرغیرآئینی چیف جسٹس نہیں:بار13 December, 2008 | پاکستان ججوں کی تقرری، نوٹیفکیشن چیلنج12 December, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||