BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 December, 2008, 09:35 GMT 14:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کی تقرری، نوٹیفکیشن چیلنج

سندھ ہائی کورٹ
سندھ ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت کی تاریخ سولہ دسمبر مقرر کی ہے
سندھ ہائی کورٹ میں حکومت سندھ کے اس حالیہ نوٹیفیکیشن کی قانونی اور آئینی حیثیت کو چیلنج کردیا گیا ہے جس کے تحت سول ججوں کی تقرری کا اختیار ہائی کورٹ سے واپس لےکر سندھ پبلک سروس کمیشن کو دیدیا گیا ہے۔

یہ درخواست سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی نے داخل کی ہے جو خود ہائی کورٹ کے سابق جج ہیں۔

درخواست میں وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور، صوبہ سندھ کے چیف سیکریٹری اور سندھ پبلک سروس کمیشن کے چئرمین کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ کا یہ اقدام بدنیتی پر مبنی ہے اور اسکا مقصد ماتحت عدلیہ میں سیاسی بنیادوں پر ججوں کی تقرریوں کا راستہ کھولنا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رشید اے رضوی نے کہا کہ سول ججوں کی تقرری کا اختیار پبلک سروس کمیشن کو سونپا گیا تو ماتحت عدلیہ کی آزادی برقرار نہیں رہے گی۔

’سپریم کورٹ نے جس طرح سے وقتاً فوقتاً اپنے مختلف فیصلوں کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کی تعریف بیان کی ہے، حکومت سندھ کا یہ نوٹیفیکیشن اسکے سراسر منافی ہے اور اس پر عملدرآمد ممکن ہی نہیں ہے۔‘

انہوں نے اپنے مؤقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پبلک سروس کمیشن سول سروس کے لیے بھرتیوں کا کام کرتا ہے جبکہ ججوں کا تقرر جوڈیشل سروس ہے اور جوڈیشل سروس میں بھرتی کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ ججوں کا انتخاب اعلی عدالت کرتی ہے اور ان کی تقرری کا نوٹیفیکیشن حکومت سندھ جاری کرتی ہے۔

’آج بھی یہ پریکٹس تین صوبوں میں قائم ہے، کیوں انہوں (حکومت) نے صرف سندھ میں ہی ہائی کورٹ سے یہ اختیار واپس لیا ہے؟ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی تو چیف جسٹس کی سفارش پر مقرر ہوتے ہیں تو پھر سول ججوں کا انتخاب ہائی کورٹ کے ذریعے کیوں نہیں؟‘

ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت کی تاریخ سولہ دسمبر مقرر کی ہے۔

واضح رہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لئے پچھلے سال تین نومبر سے جاری وکیلوں کی تحریک میں یہ پہلی بار ہے کہ ہائی کورٹ بار نے کسی قانونی معاملے پر انہی ججوں سے رجوع کیا ہے جنہیں وہ پی سی او ججز کہتے ہیں۔

اسی بارے میں
جسٹس ڈوگر کے خلاف درخواست
06 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد