BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 December, 2008, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس ڈوگر کے خلاف درخواست

جنرل مشرف، حمید ڈوگر
جنرل مشرف نے جسٹس حمید ڈوگر کو چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات کیا
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے خلاف امتحانی پرچوں میں اپنی بیٹی کے نمبر بڑھانے کے لیے اختیارات سے تجاوز کرنے کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔

لاہور کے رہائشی محمد افتخار حسین راجپوت نے اپنی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کے نمبر بڑھانے کے لیے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا ہے۔

یہ درخواست صدر آصف علی زرداری کو بھی بھیجی گئی ہے۔ اور اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اپنی بیٹی فرح حمید ڈوگر کے میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے اضافی نمبر بڑھانے کے لیے اپنےاختیارات سے تجاوز کرکے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل اُن کے خلاف تادیبی کارروائی کرے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عبدالحمید ڈوگر کو ریٹائرڈ ہونے کا موقع نہ دیا جائے اور آئین کی خلاف ورزی کرنے پر اُن کی پینشن اور پلاٹ ضبط کر لیا جائے۔

درخواست گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی ہے کہ اُسے قانونی پیروری کرنے کے لیے وکیل بھی مہیا کیا جائے۔

قانون کے مطابق سپریم کورٹ کا چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کا سربراہ ہوتا ہے اور اگر چیف جسٹس کے خلاف کوئی شکایت موصول ہو تو اس درخواست کی سماعت سپریم کورٹ کا سینئر جج کرتا ہے۔

 مذکورہ میڈیکل کالج کے پرنسپل کو عدالت میں طلب کرکے پوچھا جائے کہ انہوں نے چیف جسٹس کی بیٹی کو کالج میں داخلہ دیکر دوسرے طلباء اور طالبات کی حق تلفی کیوں کی
درخواست گزار

اس وقت سردار رضا خان چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے بعد سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج ہیں۔سردار رضا خان سپریم کورٹ کے اُن ججوں میں شامل ہیں جنہوں نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے تحت 3 نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کیا تھا۔

اُدھر چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو اپنی بیٹی کو اضافی نمبر دینے کےمعاملے پر عام شہری کی حثیت سے فریق بنانے کے حوالے سے ایک متفرق درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

سنیچر کودرخواست گزار افتخار حسین راجپوت کی جانب سے بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے درخواست دائر کی۔

اس درخواست میں اس ضمن میں عبدالحمید ڈوگر کو فرح حمید ڈوگر کے والد کی حثیت سے فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں انٹرنیشنل اسلامک میڈیکل کالج کے پرنسپل کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مذکورہ میڈیکل کالج کے پرنسپل کو عدالت میں طلب کرکے پوچھا جائے کہ انہوں نے چیف جسٹس کی بیٹی کو کالج میں داخلہ دیکر دوسرے طلباء اور طالبات کی حق تلفی کیوں کی۔

فرح حمید ڈوگر کو مبینہ طور پرامتحانی پرچوں کی ری چیکنگ کی آڑ میں اضافی نمبر دینے کے خلاف مرکزی پٹیشن کی سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے میں ہوگی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے تعلیم کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو فرح حمید ڈوگر کو اضافی نمبر دینے کے معاملے کی تحقیقات سے روکنے کے لیے حکم امتناعی جاری کیا ہے۔ یہ حکم امتناعی وفاقی تعلیمی بورڈ کے سابق چیئرمین شمشاد بیگ کی درخواست پر جاری کیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چئرمین عابد شیر علی نے، جن کا تعلق حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے ہے، کہا ہے کہ پارلیمنٹ ایک سپریم ادارہ ہے اور عدالت پارلیمنٹ کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

اُن کا کہنا تھا کہ عدالت کی طرف سے حکم امتناعی کے باوجود قائمہ کمیٹی کی کارروائی جاری رہے گی۔قومی اسمبلی کی تعلیم کے بارے میں قائمہ کمیٹی کا اجلاس 15 دسمبر کو طلب کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘
26 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد