قرارداد کی منظوری کے لیے کمیٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے پارلیمان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں حکومتی پالیسی کے متعلق متفقہ قرار داد منظور کرنے کے لیے سولہ رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی چوبیس گھٹنے کے اندر قرار داد کے مسودے کو حتمی شکل دے گی۔ اس کمیٹی میں پارلیمان میں موجود تمام جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔ کمیٹی کی کنوینر وزیر اطلاعات شیری رحمٰن ہیں جبکہ اراکین میں چوہدری نثار علی خان، اقبال ظفر جھگڑا، وسیم سجاد، مولانا فضل الرحمٰن، بابر اعوان، پروفیسر خورشید، انیسہ زیب طاہر خیلی، عبدالرزاق تھیم، منیر اورکزئی، عبدالمالک بلوچ، پرویز خان، مولانا سمیع الحق، اسرار اللہ زہری، عبدالرحیم مندو خیل اور حیدر عباس رضوی شامل ہیں۔ قبل ازیں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ایک سرکردہ رہنما احسن اقبال نے بتایا کہ ان کی جماعت نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق پالیسی کے بارے میں اراکین اسمبلی کی سفارشات پر عمل درآمد کو مانیٹر کرنے کی خاطر بھی پارلیمان کی ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے۔ احسن اقبال نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ بدھ کو پارلیمان کے مشترکہ بند کمرے والے اجلاس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں پالیسی کے متعلق اتفاق رائے سے قرار داد منظور ہوجائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی پالیسی کے بارے میں بحث طویل ہونے کی وجہ سے اجلاس کی کارروائی ایک روز تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پروگرام کے مطابق چار روز میں بحث مکمل کرنی تھی اور اراکین نے اپنی سفارشات پیش کرنی تھیں لیکن موضوع اہم ہونے کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ اراکین بولنا چاہتے ہیں۔ منگل کو مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما احسن اقبال سمیت مختلف اراکین نے بحث میں حصہ لیا۔ احسن اقبال نے بعض امریکی تھنک ٹیکس اور بی بی سی کے ایک حالیہ سروے کے حوالے پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا تسلیم کرتی ہے کہ امریکی پالیسی (صدر بش انتظامیہ) ناکام ہوئی ہے۔ احسن اقبال نے بعض سابق امریکی وزراء خارجہ کے حوالے سے ایوان کو بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ نائن الیون سے پہلے جتنا محفوظ تھا اب صدر بش کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اتنا محفوظ نہیں رہا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں اور اب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں نئی پالیسی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کا محور مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہونا چاہیے اور طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ | اسی بارے میں ان کیمرہ بریفنگ: سخت سکیورٹی08 October, 2008 | پاکستان بریفنگ: مسلم لیگ کا عدم اطمینان09 October, 2008 | پاکستان پارلیمان، فوجی پالیسیوں پر تنقید09 October, 2008 | پاکستان ہمیں بھی بریفنگ دینے دیں:طالبان 10 October, 2008 | پاکستان ’تصویر کادوسرا رخ ‘11 October, 2008 | پاکستان سکیورٹی بریفنگ، ن لیگ مایوس 15 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||