BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 October, 2008, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قرارداد کی منظوری کے لیے کمیٹی

کمیٹی چوبیس گھٹنے کے اندر قرار داد کے مسودے کو حتمی شکل دے گی

پاکستان کے پارلیمان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں حکومتی پالیسی کے متعلق متفقہ قرار داد منظور کرنے کے لیے سولہ رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

یہ کمیٹی چوبیس گھٹنے کے اندر قرار داد کے مسودے کو حتمی شکل دے گی۔ اس کمیٹی میں پارلیمان میں موجود تمام جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔

کمیٹی کی کنوینر وزیر اطلاعات شیری رحمٰن ہیں جبکہ اراکین میں چوہدری نثار علی خان، اقبال ظفر جھگڑا، وسیم سجاد، مولانا فضل الرحمٰن، بابر اعوان، پروفیسر خورشید، انیسہ زیب طاہر خیلی، عبدالرزاق تھیم، منیر اورکزئی، عبدالمالک بلوچ، پرویز خان، مولانا سمیع الحق، اسرار اللہ زہری، عبدالرحیم مندو خیل اور حیدر عباس رضوی شامل ہیں۔

قبل ازیں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ایک سرکردہ رہنما احسن اقبال نے بتایا کہ ان کی جماعت نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق پالیسی کے بارے میں اراکین اسمبلی کی سفارشات پر عمل درآمد کو مانیٹر کرنے کی خاطر بھی پارلیمان کی ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے۔

احسن اقبال نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ بدھ کو پارلیمان کے مشترکہ بند کمرے والے اجلاس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں پالیسی کے متعلق اتفاق رائے سے قرار داد منظور ہوجائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پارلیمان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی پالیسی کے بارے میں بحث طویل ہونے کی وجہ سے اجلاس کی کارروائی ایک روز تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 میری کی جماعت نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق پالیسی کے بارے میں اراکین اسمبلی کی سفارشات پر عمل درآمد کو مانیٹر کرنے کی خاطر بھی پارلیمان کی ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے
احسن اقبال، مسلم لیگ (ن) رہنما

ان کا کہنا ہے کہ پروگرام کے مطابق چار روز میں بحث مکمل کرنی تھی اور اراکین نے اپنی سفارشات پیش کرنی تھیں لیکن موضوع اہم ہونے کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ اراکین بولنا چاہتے ہیں۔

منگل کو مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما احسن اقبال سمیت مختلف اراکین نے بحث میں حصہ لیا۔ احسن اقبال نے بعض امریکی تھنک ٹیکس اور بی بی سی کے ایک حالیہ سروے کے حوالے پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا تسلیم کرتی ہے کہ امریکی پالیسی (صدر بش انتظامیہ) ناکام ہوئی ہے۔

احسن اقبال نے بعض سابق امریکی وزراء خارجہ کے حوالے سے ایوان کو بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ نائن الیون سے پہلے جتنا محفوظ تھا اب صدر بش کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اتنا محفوظ نہیں رہا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں اور اب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں نئی پالیسی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کا محور مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہونا چاہیے اور طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں
’تصویر کادوسرا رخ ‘
11 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد