’پارلیمانی کمیٹی تحقیقات روک دے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کو چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی فرح ڈوگر کےامتحانی پرچوں میں اضافی نمبر دینے کےمعاملے کی تحقیقات کرنے سے روک دیا ہے۔ جمعرات کو وفاقی تعلیمی بورڈ کے سابق چیئرمین شمشاد بیگ کی طرف سے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس زوار حسین جعفری نے درخواست کی سماعت اپنے چیمبر میں کی۔ ابتدائی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیے تعلیم کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو فرح حمید ڈوگر کو اضافی نمبر دینے کا معاملے پر غور نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی ریکارڈ طلب کرے یا کوئی تحقیقات کرے۔
سپریم کورٹ نے وفاقی تعلیمی بورڈ کی چیئرپرسن اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرنا چاہیے۔ تعلیم کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا تھا کہ چونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے کمیٹی اس پر کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کمیٹی کے چیئرمین عابد شیر علی سے کہا کہ اُنہیں یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یا وفاقی تعلیمی بورڈ کی چیئرپرسن سے کہیں کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔
کمیٹی کے چیئرمین نے وفاقی وزیر قانون سے کہا کہ وہ چند روز میں بتائیں کہ کیا کمیٹی کے یہ اختیار میں ہے کہ اپنی صفائی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بارے میں کہے؟ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اکرم شیخ جنہیں قانونی معاونت کے لیے کمیٹی نے خصوصی طور پر مدعو کیا تھا، کہا کہ آئین کے تحت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ریکارڈ طلب کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں زیر سماعت مقدمے کا قانون امریکہ اور یورپی ممالک میں ناپید ہوچکا ہے اور اظہار رائے کی آزادی نے اس قانون کی جگہ لے لی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر تعلیم احسن اقبال نے یہ کمیٹی پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی پیشہ وارانہ امور پر بحث نہیں کر رہی بلکہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے اپنی بیٹی کے اضافی نمبر بڑھوائے۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت تعلیم نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ امتحانی پرچوں کا ازسرنو جائزہ نہیں لیا جاسکتا بلکہ ان پرچوں پر لگائے گئے نمبروں کی ری چیکنگ ہوسکتی ہے۔ | اسی بارے میں عبدالحمید ڈوگر کے استعفے کا مطالبہ30 October, 2008 | پاکستان ’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘26 September, 2008 | پاکستان اختلافات ختم کرنے کے لیے کمیٹی22 November, 2008 | پاکستان سترہ رکنی مشترکہ کمیٹی کی تشکیل10 November, 2008 | پاکستان سات کمیٹیاں، پی ایم ایل ن کے سپرد23 October, 2008 | پاکستان قرارداد کی منظوری کے لیے کمیٹی 21 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||